Al-Risala · June 2004 · page 40

Relevance of Sufism in the Post-9/11 World

الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۴۰

بلکہ وسیع تر معنوں میں وہ خود اسلام کی تعمیر نو کا مسئلہ ہے۔ پہلے مسئلہ کے مقابلہ میں دوسرا مسئلہ ہزاروں گنا زیادہ بڑا اور اہم ہے۔ اس بارے میں یقینی طور پر دورائے نہیں ہوسکتی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی نئی تعمیر صرف معتدل حالات میں ہوسکتی ہے۔ نزاع اور ٹکراؤ کے ماحول میں اس قسم کا مثبت کام نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو ہمیں تعلیم یافتہ بنانا ہے ہمیں ان کے اندر اتحاد کی فضا قائم کرنا ہے۔ ہمیں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ، نئی تعلیم گاہیں قائم کرنا ہے۔ ہمیں جدید معیار کے مطابق، اسلامی صحافت وجود میں لانا ہے۔ ہمیں برادران وطن تک ان کی اپنی زبانوں میں اسلام کا پیغام پہنچانا ہے۔ ہمیں اسلامی خطوط پر مسلم معاشرے کی اصلاح کرنا ہے۔ ہمیں مسلمانوں کے معاشی پچھڑے پن کو دور کرنا ہے۔ ہمیں مسلم نوجوانوں کے اندر مثبت طرزِ فکر لانا ہے، وغیرہ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی تعمیر و استحکام کے لئے اس قسم کے بہت سے ضروری کام ہیں جو ابھی تک اپنی ابتدائی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ سنہ ۱۹۴۷ کے بعد مسلمانوں کو وہ معتدل حالات نہ مل سکے جس میں مثبت تعمیر کا کام کیا جاتا ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہم اس معاملہ میں پوری طرح باشعور ہو جائیں۔ ہم یک طرفہ طور پر ذمہ داری لیتے ہوئے ٹکراؤ اور نزاع کے ماحول کو ختم کر دیں تا کہ تعمیر و استحکام کا وہ کام ہو سکے جواب تک نہ ہو سکا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ تعداد ۲۲ کروڑ ۶۳ لاکھ ہے (دینک بھاسکر، بھوپال، ۱۷ اکتوبر ۲۰۰۱)۔ اس کے مطابق، ہندوستان میں اس وقت کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ مسلمان آباد ہیں، حتیٰ کہ انڈونیشیا سے بھی زیادہ۔ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد ابھی تک ایک غیر اہم ملت بنی ہوئی ہے۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ انہیں کام کرنے کا معتدل ماحول اب تک حاصل نہ ہو سکا۔ اب مسلمانوں کو خود اس کی ذمہ داری لیتے ہوئے یک طرفہ بنیاد پر نارملائزیشن کا عمل جاری کرنا چاہئے۔ اس قسم کا ماحول سب سے زیادہ مسلمانوں کے لئے مفید ہے۔ اس لئے تنہا انہی کو یہ کام کرنا ہے۔ یہ کام صبر اور تحمل اور اعراض کی پالیسی کے ذریعہ ہی انجام دیا جا سکتا ہے، اس کے بغیر سازگار ماحول کا قیام ممکن نہیں۔ دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page