Al-Risala · August 2004 · page 3

جنت کی نعمتیں

الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۳

جنت کی نعمتیں

اکیدر بن عبد الملک الکندی (م ۱۲ھ) دومۃ الجندل کا عیسائی حاکم تھا۔ غزوہ تبوک (۹ھ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مقام کے قریب پہنچے تو وہ آ کر آپ سے ملا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ مگر آپ کی وفات کے بعد وہ پھر گیا۔ خلیفہ اول کے زمانہ میں حضرت خالد بن ولید نے اس سے جنگ کی جس میں وہ مارا گیا۔

روایات میں آتا ہے کہ اکیدر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آیا تو اس کے جسم پر نہایت شاندار لباس تھا۔ حضرت انس بن مالک کہتے ہیں :

رأيت قباء اکیدر حين قدم به علی رسول الله میں نے اکیدر کی قبا اس وقت دیکھی ہے جب صلی اللہ علیہ وسلم فجعل المسلمون يلبسونه کہ وہ اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بايديهم ويتعجبون منه فقال پاس آیا۔ مسلمان اس کی قبا کو اپنے ہاتھ سے چھونے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ا تعجبون لگے اور اس پر تعجب کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ من هذا ، فوالذی نفسی بيده علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا تم لوگ اس پر تعجب کر رہے لمناديل سعد بن معاذ في الجنة ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان احسن من هذا ۔ ہے، بلاشبہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بھی زیادہ اچھے ہیں۔

(البدایہ والنہایہ ١٤/٥)

جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ابدی ہے اسی طرح آپ کا یہ کلام بھی ابدی ہے۔ آپ کا یہ قول صرف پہلی صدی ہجری کے ایک خوش پوش انسان کے بارے میں نہیں ہے بلکہ قیامت تک کی ان تمام دنیوی چیزوں کے بارہ میں ہے جن کی ظاہری رونق پر لوگ تعجب کریں اور حسن کو دیکھنے والے رشک کی نظروں سے انھیں دیکھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی جو چیزیں لوگوں کو آج بہت خوش نما نظر آتی ہیں، جنت کی چیزیں ان کے مقابلہ میں بے حساب گنا زیادہ خوش نما اور پر راحت ہوں گی۔ اس وقت آدمی کو محسوس ہوگا کہ جو کچھ اس نے کھویا وہ کچھ بھی نہ تھا، جب کہ اس نے جو کچھ پایا ہے وہ سب کچھ سے بھی بہت زیادہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues

Printed page