Al-Risala · August 2004 · page 6

زلزلہ کا سبق

الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۶

زلزلہ کا سبق

قدرتی آفتوں میں سب سے بڑی آفت زلزلہ ہے۔ قدیم ترین زمانہ سے انسان زلزلوں کا شکار ہوتا رہا ہے۔ زلزلہ میں جو انسانی موتیں واقع ہوتی ہیں، ان کا سب سے بڑا سبب مکانوں کا گرنا ہے۔ جب زلزلہ کا جھٹکا آتا ہے تو مکانات اچانک گر پڑتے ہیں اور چھوٹے بڑے سب اس کے نیچے دب کر مرجاتے ہیں۔ انسان نے اپنے تجربات میں یہ معلوم کیا کہ جو مکان جتنا زیادہ مضبوط ہو، اتنی ہی آسانی سے وہ زمیں بوس ہو جاتا ہے اور بھیانک حادثات کا سبب بنتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ زلزلہ سے پیدا ہونے والے نقصانات سے بچنے کی تدبیر مکانات کی "مضبوطی" نہیں بلکہ اس کی "کمزوری" ہے۔ مضبوط مکان بے لچک ہوتا ہے، وہ زلزلہ کے مقابلہ میں مستحکم طور پر کھڑا رہنا چاہتا ہے۔ چونکہ شدید زلزلہ کا جھٹکا باہر مضبوط مکان سے بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے مکان کی مضبوطی اس کے لیے الٹی پڑتی ہے ۔ وہ پورا کا پورا دھڑام سے گر جاتا ہے۔

اس کے برعکس مکان اگر زیادہ مضبوط نہ ہو بلکہ لچک دار ہو تو اس کے اندر زلزلہ کے جھٹکے کو سہارے کی طاقت آ جاتی ہے۔ زلزلہ جب جھٹکا دیتا ہے تو وہ خود بھی ہلنے لگتا ہے۔ اس طرح مکان کا ہلنا اس کو گرنے سے بچا لیتا ہے۔ زلزلہ اگر زمین کو تلپٹ نہ کرے، بلکہ صرف ہلائے، تو ایسے مکانات اکثر محفوظ رہتے ہیں اور اسی کے ساتھ ان مکانوں کے باشندے بھی۔

اس تجربہ کی روشنی میں ارتھ کوئیک انجینئرنگ وجود میں آئی ہے۔ اس انجینئرنگ کے مطابق، زلزلہ کے علاقوں میں ایسے مکانات بنائے جاتے ہیں جن کا ڈھانچہ فلوٹنگ فاؤنڈیشن Floating Foundation، کے اصول پر بنایا جاتا ہے۔ چنانچہ جب زلزلہ کا جھٹکا آتا ہے تو ایسا مکان ہل کر رہ جاتا ہے، وہ منہدم نہیں ہوتا۔ ۱۹۸۹ میں سان فرانسسکو میں شدید زلزلہ آیا۔ مگر وہاں صرف ۳۵ موتیں ہوئیں ۔ جب کہ جون ۱۹۹۰ میں اسی قسم کا زلزلہ شمالی ایران میں آیا تو ۴۰ ہزار آدمی مرگئے ۔ اس فرق کا سبب تھا کہ سان فرانسسکو میں لچک دار مکانات بنے تھے اور ایران میں اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کے مضبوط مکانات

‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues

Printed page