Al-Risala · August 2004 · page 22

منصوبۂ تخلیق

الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۲۲

منصوبۂ تخلیق

قرآن گویا خدا کے تخلیقی منصوبے کا اعلان ہے۔ قرآن کے ذریعہ خالق نے تمام انسانوں کو بتایا ہے کہ وہ کس خاص منصوبے کے تحت زمین پر پیدا کیے گئے ہیں۔ اور فکر و عمل کا وہ کون سا طریقہ ہے جس کو انھیں اپنی کامیابی کے لیے اختیار کرنا چاہیے۔ یہ منصوبہ قرآن میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک آیت یہ ہے : اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے، اور وہ عزیز و غفور ہے (الملک ۲)

قرآن کے اس بیان کے مطابق تخلیق کا کلیدی نکتہ ابتلا (امتحان) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایک نہایت اعلیٰ اور معیاری دنیا بنائی جس کا نام جنت ہے۔ یہ جنت ابدی راحت اور ابدی سرفرازی کی جگہ ہے۔ موجودہ دنیا کی زندگی اس جنت میں داخلہ کا ایک امتحانی مرحلہ ہے ۔ جو آدمی یہاں کا مقررہ امتحان پاس کر لے اس کے لیے موت کے بعد ابدی جنتوں کے دروازے کھول دیے جائیں گے ۔

یہ امتحان کس بات کا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ غیب میں رہتے ہوئے آدمی اپنے خدا کو پہچانے اور اپنے دل و دماغ میں اس کو سب سے اونچی جگہ دے۔ وہ اپنے قول و عمل پر خود اپنے فیصلے سے خدا کی لگام لگائے۔ بظاہر با اختیار رہتے ہوئے وہ اپنے آپ کو خدا کے مقابلے میں بے اختیار بنا لے۔ وہ خدا کی اس تقسیم پر راضی ہو جائے کہ موجودہ دنیا اس کے لیے ذمہ داریاں ادا کرنے کی جگہ ہے، اور آخرت کی دنیا حقوق اور انعام حاصل کرنے کی جگہ۔

جنت میں داخلہ کا ٹکٹ اس انسان کو دیا جائے گا جو جنت کو دیکھے بغیر جنت کی معرفت حاصل کرلے۔ وہ آخرت کی نعمتوں کی خاطر دنیا کی نعمتوں سے بے رغبت ہو جائے۔ وہ آزادی رکھتے ہوئے اپنے آپ کو پابند بنا لے۔ وہ اپنی نفسانی خواہشوں کو دبائے اور اپنی ضمیر کی آواز کو اپنا رہنما بنائے۔ وہ بے اصولی کی زندگی کو چھوڑ کر ایک با اصول انسان جیسی زندگی اختیار کرے ۔ جو لوگ اس امتحان میں پورے اتریں ان کے لیے خدا کے ابدی انعامات ہیں۔ اور جو لوگ اس میں پورے نہ اتریں ان کے لیے خدا کے یہاں نہ رحمت ہے اور نہ انعام۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues

Printed page