سب سے زیادہ مبغوض چیز
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۳۴
قرآن میں ارشاد ہوا ہے ۔ اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتی اور نسل کو ہلاک کرے۔ حالانکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (البقرہ ۲۰۵) فساد کا الٹا صلاح ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد اور صلاح کا معیار کیا ہے۔ اور کس طرح دونوں کو الگ الگ پہچانا جا سکتا ہے۔ وہ معیار نتیجہ (result) ہے۔ آیت کے مطابق ، وہ عمل فساد ہے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ انسانی سماج میں تخریبی سرگرمی بڑھے۔ زراعت اور اقتصادیات میں تباہی آئے ۔ انسانی جانیں قتل ہونے لگیں۔ سماج میں امن کی جگہ بدامنی پیدا ہو جائے۔ ہر وہ عمل فساد ہے جو انسانی سماج میں اس قسم کا منفی نتیجہ پیدا کرے خواہ بظاہر اُس کو جہاد کے مقدس نام سے شروع کیا گیا ہو۔
اس کے مقابلہ میں وہ عمل صلاح و فلاح کا عمل ہے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ زمین کے اوپر مثبت سرگرمیاں جاری ہوں۔ جس کے نتیجہ میں زراعت و باغبانی ترقی کرے، جس کے ذریعہ اقتصادیات کو فروغ حاصل ہو، جس کے نتیجہ میں لوگوں کی جانیں محفوظ ہوں اور صحت عامہ (health sciences) کو ترقی حاصل ہو، جو انسانوں کے درمیان دوری کو ختم کر کے اُنہیں ایک دوسرے سے قریب کردے۔
خدا کی نظر میں جنگ سب سے زیادہ مبغوض چیز ہے، اور امن سب سے زیادہ پسندیدہ چیز۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جنگ کے ماحول میں نفرت اور تشدد کو پھیلاؤ ملتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں امن کے ماحول میں محبت اور تعمیر و ترقی کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔
ایک ایسا اقدام جس کا نتیجہ تخریب کی صورت میں نکلے، وہ اسلام میں بلاشبہ ایک غیر مطلوب فعل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بے شعوری کی بنا پر اس قسم کا اقدام کرے تو اقدام شروع کرنے کی حد تک اُس کو معذور قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر ایسے کسی عمل کو مزید جاری رکھنے کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں۔ آدمی کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ تخریبی نتیجہ نکلنے کی صورت میں فوراً ہی یوٹرن لے کر وہ اپنے اقدام کو روک دے اور اپنی سابقہ حالت کی طرف واپس چلا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues