Al-Risala · December 2004 · page 53

ڈرواس سے جو وقت ہے آنے والا

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۳

ڈرواس سے جو وقت ہے آنے والا

۲۵ جولائی ۲۰۰۴ کا واقعہ ہے۔ صبح کے وقت میں دہلی میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ پاس کے درختوں سے چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ پھر میں نے اپنا ریڈیو کھولا تو آل انڈیا ریڈیوئی دہلی کے صبح کے نشر یہ میں ایک مذہبی گیت سنائی دینے لگا۔ اس کی ایک لائن یہ تھی: سجن رے جھوٹ مت بولو خدا کے پاس جانا ہے نہ ہاتھی ہے نہ گھوڑا ہے وہاں پیدل ہی جانا ہے اس تجربہ کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ ریڈیو کا گیت اور چڑیوں کا نغمہ دونوں ایک ہیں۔ گویا کہ ریڈیو اسی حقیقت کا اعلان ملفوظ زبان میں کر رہا ہے جس کا اعلان اس سے پہلے چڑیاں غیر ملفوظ زبان میں کر رہی تھیں۔ دونوں کا پیغام ایک ہے—اے انسان، تو جس دنیا میں ہے وہ خدا کی دنیا ہے۔ تیری کامیابی کا راز یہ ہے کہ تو اس بنیادی حقیقت کو جانے اور اپنی زندگی کو اس حقیقت کے مطابق ڈھال لے۔ زندگی امتحان کی ایک مدت ہے اور موت اس مدت امتحان کا خاتمہ۔ موت گویا مالک کا ئنات کی طرف سے انسان کی گرفتاری ہے۔ موت کے بعد ہر عورت اور مرد خدا کی عدالت میں پہنچا دیے جاتے ہیں تاکہ وہ وہاں اپنے قول و عمل کا حساب دیں۔ اسی حساب کی بنیاد پر ہر عورت اور مرد کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ خدا کے حکم پر چلنے والوں کے لیے جنت کا فیصلہ، اور خدا کے حکم کے خلاف چلنے والوں کے لیے جہنم کا فیصلہ۔

لوگ ہر سال اپنا برتھ ڈے مناتے ہیں۔ وہ خوش ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی کا ایک اور سال پورا ہو گیا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ہر سال اپنا ڈیتھ ڈے منائیں ۔ وہ ہر سال یاد کریں کہ ان کی مقرر زندگی کا ایک اور سال کم ہو گیا۔ اس دنیا میں ہر عورت اور مرد ایک محدود مدت کے لیے آتے ہیں—پچاس سال، نوے سال، بہت سے، بہت سو سال۔ اس کے بعد ہر ایک کے لیے مقدر ہے کہ وہ اپنی عمر کی طے شدہ مدت پوری کر کے مر جائے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو ہر عورت اور ہر مرد کا مسلسل کاؤنٹ ڈاؤن ہورہا ہے۔ ہرنیا سال جب آتا ہے تو وہ ہر عورت اور ہر مرد کی عمر کا ایک سال اور کم کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page