ڈرواس سے جو وقت ہے آنے والا
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۶
ابدی دنیا ہے جب موجودہ دنیا صرف ایک فانی دنیا۔
موجودہ امتحان کی دنیا میں وہ لوگ چنے جا رہے ہیں جو اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کریں کہ وہ جنت کی اعلیٰ دنیا میں بسائے جانے کے اہل ہیں۔ سلکشن کی یہ مدت جب پوری ہوگی تو منتخب افراد جنت کی معیاری دنیا میں پہنچادئے جائیں گے، جہاں نہ کوئی تکلیف ہے اور نہ کوئی اندیشہ، جہاں نہ کوئی شور ہے اور نہ کوئی مصیبت۔ اور جولوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں انہیں کائنات کے ابدی کوڑے خانے میں پھینک دیا جائے گا۔ آج کی دنیا میں لوگوں کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ ہر عورت اور ہر مرد بے اطمینانی کی حالت میں جی رہے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ لوگ جن کو بظاہر دنیا کے سارے سامان حاصل ہیں، وہ بھی مطمئن نہیں۔ اس بے اطمینانی کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے معیاری دنیا (ideal world) کا طالب ہے جبکہ کہ موجودہ دنیا اپنے سارے سازوسامان کے باوجود ایک غیرمعیاری دنیا ہے۔ انسان کی طلب اور موجودہ دنیا کے درمیان یہی فرق بے اطمینانی کا اصل سبب ہے۔ جنت میں یہ فرق ختم ہو جائے گا۔ وہاں کی جنت عین وہی معیاری دنیا ہوگی جس کی طلب انسان اپنے اندر فطری طور پر پاتا ہے۔ جنت میں ہر عورت اور ہر مرد کو پورا فل فلمنٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ وہاں ہر ایک اپنی طلب کے مکمل جواب کو پالے گا۔
یہی وہ جنت کی معیاری دنیا ہے جس کے بارے میں پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا (لاعین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر )
انسان کو اس کی ابدی عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کا اصل مسئلہ دنیا کی کامیابی یا دنیا کی ناکامی نہیں ہے۔ بلکہ اس کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اگلی دنیا میں جہنم کی سزا سے بچے اور اپنے آپ کو جنت میں داخلہ کا مستحق بنائے۔ ایسی حالت میں انسان کو چاہیے کہ وہ جہنم سے سب سے زیادہ ڈرے، اور وہ جنت کا سب سے زیادہ خواہشمند بنے۔ یہی عقل کا تقاضا ہے اور یہی حقیقت پسندی کا تقاضا بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues