ثمنی پبلیکیشنز، چلکل گوڑہ، سکندر آباد، ۵۰۰۳۶۱
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۸۷
۔ ایران کلچر ہاؤس اور ہمدرد یونیورسٹی (نئی دہلی) کے تعاون سے ۱۲ مارچ ۲۰۰۴ کو قرآنی علوم (Qur'anic sciences) پر ایک سیمینار ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس میں ایک بات یہ بتائی کہ سائنسی تعلیم کی اہمیت صرف مادی ترقی کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ قرآن کو جدید تناظر میں سمجھنا اور جدید نسلوں کے لیے اسلام کو زیادہ قابل فہم بنانا، اس سے بھی اس کا گہرا تعلق ہ۷۔ ے۔ انجمن امن دوست انسان دوست (نئی دہلی) کے تحت راشٹر شکتی فاؤنڈیشن کا سالانہ جلسہ ۱۴ مارچ ۲۰۰۴ کو میر در روڈ (مہندیان) میں ہوا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔ اس جلسہ میں وہ بعض اسباب سے نہ جاسکے۔ البتہ انہوں نے ایک تحریری پیغام ان کے لیے بھیج دیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ آج کے ماحول میں انسان دوستی اور امن دوستی کا پیغام بے حد اہم ہے۔ تعمیری سماج بنانے کے لیے یہ دو بنیادی نکتے ہیں۔ ۸۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۲ مارچ ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اُن کا خاص سوال یہ تھا کہ اخبارات (مثلاً ٹائمس آف انڈیا ۲۱ مارچ ۲۰۰۴) میں یہ خبر چھپی ہے کہ بی جے پی کے لیڈر مسٹر پرمود مہاجن کی رہائش گاہ (نئی دہلی) پر ایک میٹنگ ہوئی جس میں پرائم منسٹر کے اسپیشل سکریٹری مسٹر کلکرنی بھی موجود تھے۔ اس میں آپ نے شرکت کی اور وہاں ایک تقریر کی۔ آپ کی اس شرکت کو بی جے پی کی حمایت کے معنی میں لیا جارہا ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ یہ شرکت کوئی نئی بات نہیں تھی۔ یہ الرسالہ مشن کا ایک حصہ تھا۔ الرسالہ کا مشن یہ ہے کہ ہندوستان میں ہندو۔ مسلم اتحاد پیدا کیا جائے۔ مسلمانوں میں دو قومی نظریہ کا ذہن ختم کیا جائے اور اس سوچ کو ختم کیا جائے کہ ہندوستان دار الكفر یا دارالحرب ہے۔ بلکہ لوگوں کے اندر یہ ذہن پیدا کیا جائے کہ ہندوستان دارالنسان ہے۔ کسی کو اینٹی مسلم قرار دے کر اُس سے کٹنا داعی کے لیے جائز نہیں۔ داعی ہر ایک کو مدعو کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ ہر ملک کو دار الدعوہ سمجھتا ہے۔ یہی الرسالہ کا مشن ہے اور یہ مشن پچھلے تیس سال سے یہاں چلایا جارہا ہے۔ ۹۔ بی بی سی انگریزی (اسکاٹ لینڈ) کی ٹیم ۲۳ مارچ ۲۰۰۴ کو اسلامی مرکز میں آئی۔ اس کی قیادت مارک رچرڈڑ (Mark Richards) کر رہے تھے جو کہ بی بی سی میں سینئر پروڈیوسر فیچرس ہیں۔ انہوں نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر صوفی اسلام اور اس سے تعلق رکھنے والے موضوعات سے تھا۔ مثلاً اسلام میں روحانیت کا تصور۔ اسلام میں میوزک اور قوالی کا تصور وغیرہ۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ روحانیت اسلام کی اصل اسپرٹ ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر روحانیت اور ربانیت پیدا کی جائے۔ جہاں تک میوزک اور قوالی کا تعلق ہے اس کو کچھ صوفیاء نے رواج دیا۔ اس سے صوفیاء کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو اس کے ذریعہ سے اسلام کی طرف راغب کیا جائے۔ تاہم اس کے بارے میں دو رائیں ہیں۔ جہاں تک علماء کا تعلق ہے وہ میوزک اور قوالی وغیرہ کو پسند نہیں کرتے۔ مگر صوفیاء اس کو روحانیت پیدا کرنے کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues