Al-Risala · December 2004 · page 90

ثمنی پبلیکیشنز، چلکل گوڑہ، سکندر آباد، ۵۰۰۳۶۱

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۹۰

انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر انتخابی سیاست اور مسلمان سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان اپنے حالات کے اعتبار سے اس قسم کی سیاست کا تحمل نہیں کرسکتے کہ وہ ایک پولیٹیکل پارٹی کو پرومسلم اور دوسری پولیٹیکل پارٹی کو اینٹی مسلم ڈکلیئر کریں اور اس کے مطابق اپنی سیاست چلائیں۔ انہیں ہر پولیٹیکل پارٹی کو انسان پارٹی کی حیثیت سے لینا ہے۔ انہیں منفی سوچ کو چھوڑ کر مثبت سوچ کے تحت اپنی پالیسی بنانا ہے۔ دوسری بات یہ کہی گئی کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ ان کی تعلیمی پس ماندگی ہے۔ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھایا جائے۔ اس کے بغیر ان کا کوئی مسئلہ حل نہ ہوگا۔ بیلٹ باکس سے ان کی قسمت برآمد نہیں ہوسکتی۔

٢٠۔ ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کے نمائندہ مسٹر سنجے کمار ساہ(Sanjay Kumar)نے ۲۸ اپریل ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات کا تعلق عید میلاد النبی سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ عید میلاد النبی دراصل ہندوؤں کے تہوار جنم اشٹمی کی نقل ہے۔ اسلام میں صرف دو تہوار ہیں— عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔ ان کے سوا جو اور تہوار مسلمان مناتے ہیں وہ ان کا اپنا رواج ہے۔ وہ اسلام کی تعلیم نہیں۔ (9899237833 Tel.) ٢١۔ ہندی روزنامہ نو بھارت ٹائمر کے نمائندہ مسٹر سنجے ورما نے ۲۸ اپریل ۲۰۰۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر موجودہ الیکشن اور اس میں مسلمانوں کا حصہ کے بارے میں تھا۔ جوابات کے دوران بتایا گیا کہ آج کل بعض نام نہاد مسلم رہنما جو اپیل کر رہے ہیں کہ مسلمان بی جے پی کو ووٹ دیں اس کا کوئی اثر عملی طور پر ہونے والا نہیں۔ اس لیے کہ یہ نام نہاد رہنما وہی ہیں جو اس سے پہلے برابر یہ کہتے رہے ہیں کہ بی جے پی مسلم دشمن پارٹی ہے اور مسلمانوں کو اسے ہرانا ہے۔ ایسی حالت میں ان کی یہ نئی بات اسی وقت مؤثر ہوسکتی ہے جب کہ وہ اپنی موجودہ اپیل سے پہلے یہ اعلان کریں کہ اس سے پہلے ہم نادانی میں مبتلا تھے، اب ہم کو سمجھ آئی ہے۔ اپنی غلطی کا اعتراف کئے بغیر اس قسم کی اپیلوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ کوئی بھی مسلمان موجودہ حالت میں اس کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتا۔ اپیل کرنے والا جب اپنی اپیل کی کوئی معقول وجہ نہ بتار ہا ہو تو اس کو سننے والے کیوں کر اسے اہمیت دے سکتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے اندر منفی سیاست کا ذہن پیدا کیا ہے۔ اب اسی ذہن کو مثبت سیاست پر لانے کے لیے کوئی معقول وجہ بتانی پڑے گی۔ محض موجودہ قسم کی اپیل اس معاملہ میں مؤثر نہیں ہوسکتی۔ ٢٢۔ نئی دہلی کے ای ٹی وی (Enadu TV) کی ٹیم نے ۲ مئی ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع عید میلاد النبی تھا۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا کہ عید میلاد النبی کوئی اسلامی تو تہوار نہیں وہ مسلمانوں کا اپنا ایک رواج ہے۔ دور اول میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ عرب ملکوں میں اب بھی اس قسم کا تہوار نہیں منایا جاتا۔ یہ زیادہ تر ہندوستان اور پاکستان میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر جلوس وغیرہ کے جو ہنگامے کئے جاتے ہیں وہ تو درست نہیں البتہ اگر

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page