Al-Risala · December 2004 · page 95

1. True Jihad 2. Indian Muslims

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۹۵

حالاں کہ سادہ مسئلہ یہ ہے کہ حمل شدہ بچہ کو مارنا تو بلاشبہ حرام ہے مگر مانع حمل تدبیر اختیار کرنا ہرگز حرام نہیں۔ ۴۰۔ ہفت روزہ نئی دنیا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر جمشید عادل نے ۲۱ ستمبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر برتھ کنٹرول سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ قرآن کی بعض آیتوں کو لے کر لوگ برتھ کنٹرول کو نا جائز بتاتے ہیں۔ ان آیتوں کا کوئی تعلق برتھ کنٹرول کے مسئلہ سے نہیں۔ اسلام میں قتل اولاد یا اسقاط بلاشبہ جائز نہیں مگر منع حمل کی پیشگی تدبیر کے بارے میں کوئی کھلی ممانعت قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے۔

۴۱۔ سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ۲۲ ستمبر ۲۰۰۴ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس میں انڈیا کے مختلف آرمی اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع کے مطابق انسانی اقدار (human values) پر اسلامی معلومات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔

۴۲۔ برٹش ہائی کمیشن (نئی دہلی) کی فرسٹ پولیٹیکل سکریٹری جان کیلے (Joanne Caley) نے ۲۴ ستمبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی گورنمنٹ یہ جاننا چاہتی ہے کہ انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اور اسی طرح باہر کے ملکوں میں مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان عناد (antagonism) کی جو فضا پائی جاتی ہے اس کو دور کرنے کے لیے مولانا صاحب کا مشن کیا کام کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں انہیں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا اور مطالعہ کے لیے دو کتابیں دی گئیں :

1. True Jihad 2. Indian Muslims

انہوں نے توجہ سے باتوں کو سنا اور ان کو کا غذ پر نوٹ کیا۔ انہوں نے کافی دلچسپی کا اظہار کیا اور آئندہ دوبارہ ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔

۴۳۔ فری لانس جرنلسٹ مرمتاز نے ۲۵ ستمبر ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو بھارت ٹائمس نئی دہلی کے لیے تھا۔ سوالات کا تعلق فیملی کنٹرول اور خواتین کے معاملہ میں اسلامی تعلیمات سے تھا۔ اس سلسلہ میں قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام کا موقف بتایا گیا ۔

۴۴۔ ہندی روزنامہ دینک جاگرن کے نمائندہ ایتاب اگنی ہوتری نے ۹ ستمبر ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ مذہب کی بنیاد پر مردم شماری کے بارے میں تھا۔ جوابات کا خلاصہ تھا کہ تمام مسئلوں کا مشترک حل یہ ہے کہ افزائش نسل یا برتھ کنٹرول کا شو شریعت کا شونہیں ہے وہ نیشنل پلاننگ کا اشو ہے۔ ۴۵۔ عارف، گڑیا اور توفیق کے مسئلہ پر ۲۱ ستمبر ۲۰۰۲ کو زی نیوز کے اسٹوڈیو میں ایک بڑا پروگرام ہوا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page