نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا کا فرق
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۱۴
عبادت اور اخلاق اور روحانیت کا حصہ ہے۔ اور اجتماعی حصہ سے مراد اُس کے سیاسی اور سماجی احکام ہیں۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ عام حالات میں صرف مذہب کے انفرادی حصہ پر زور دیا جائے۔ ساری توجہ مذہب کی روح زندہ کرنے پر لگائی جائے۔
جہاں تک مذہب کے سماجی اور سیاسی احکام کا معاملہ ہے، اِس کو اُس وقت تک نہ چھیڑا جائے جب تک پورا معاشرہ اِس کے لیے سازگار نہ ہوجائے۔ سماجی اور سیاسی احکام پورے سماج کی اجتماعی رضامندی سے قائم ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ایسے احکام کے معاملہ میں کسی عملی اقدام سے اُس وقت تک بچنا چاہئے جب تک پورے سماج کا اجتماعی ارادہ اِس کی موافقت میں نہ ہوجائے۔ اس معاملہ کو مذہب اور سیاست کے درمیان عملی تفریق کہا جاسکتا ہے۔ یعنی نظری طور پر سیاست کو مذہب کا حصہ مانتے ہوئے عملی حقائق کی بنا پر سیاسی احکام کے عملی نفاذ کو موخر یا ملتوی کر دیا جائے۔ اسی کا نام حکمت ہے۔ اس حکمت کا یہ فائدہ ہے کہ مذہب اور سیاست دونوں کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں۔ مذہب کے تقاضے حال میں، اور سیاست کے تقاضے مستقبل میں۔ اس کے برعکس اگر اس حکمت کو ملحوظ نہ رکھا جائے اور دونوں پہلوؤں کو بیک وقت ابھار دیا جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ مذہبی تقاضے اور سیاسی تقاضے دونوں ہی پورے ہونے سے رہ جائیں۔
نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا کا فرق
کمیونل ہارمنی کا سوال بنیادی طور پر نارتھ انڈیا کا سوال ہے۔ ساؤتھ انڈیا میں آج بھی کمیونل ہارمنی پوری طرح پائی جاتی ہے۔ کمیونل ہارمنی یا نیشنل انٹیگریشن کے نام سے ہم جیسا سماج بنانا چاہتے ہیں وہ سماج بروقت ہی ساؤتھ انڈیا میں موجود ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، فرقہ وارانہ جھگڑوں کے تقریباً تمام واقعات نارتھ انڈیا کے علاقہ میں ہوتے ہیں۔ جہاں تک ساؤتھ انڈیا کا تعلق ہے، وہاں فرقہ وارانہ جھگڑے اتنے کم ہیں کہ وہ کسی گنتی میں نہیں آتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس فرق کا مطالعہ ہمارے لیے ایک رہنما مطالعہ بن سکتا ہے۔
مزید یہ کہ خود نارتھ انڈیا کے بھی دو حصے ہیں۔ ایک شہری علاقہ اور دوسرا دیہات کا علاقہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues