Al-Risala · February 2004 · page 17

نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا کا فرق

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۱۷

کرتا ہے۔ اس کے برعکس غیر کی تنبیہہ کو وہ وقار کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ وہ اس کا کوئی مثبت اثر قبول نہیں کرتا۔ فرقہ وارانہ اتحاد کے سلسلہ میں اس حکمت عملی کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ قوم اور قومیت اس سلسلہ میں چند اسلامی اصطلاحیں ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ ان اصطلاحوں کا صحیح مفہوم مسلم اور غیر مسلم کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرتا ہے اور ان اصطلاحوں کا غلط مفہوم برعکس طور پر دونوں کے درمیان دوری کا سبب بن جاتا ہے۔

ان میں سے ایک قومیت کا مسئلہ ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے غیر مومن مخاطبین کو اے میری قوم، (یا قومی) کے لفظ سے خطاب کیا ہے۔ اس قرآنی بیان کے مطابق، مومن اور غیر مومن کی قومیت (نیشنلیٹی) ایک ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیت کا تعلق مذہب سے نہیں ہے بلکہ وطن سے ہے۔ مذہبی اشتراک کو بتانے کے لیے ملت کا لفظ بولا جائے گا اور وطنی اشتراک کو بتانے کے لیے قومیت کا لفظ۔ موجودہ زمانہ میں وطن (home land) کو قومیت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کا اصول بھی یہی ہے۔ اسلام کے مطابق بھی وطن ہی قومیت کی بنیاد ہے۔

اس اعتبار سے دو قومی نظریہ ایک غیر اسلامی نظریہ ہے۔ دو قومی نظریہ مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ ہم الگ قوم ہیں اور دوسرے لوگ الگ قوم۔ جب کہ صحیح اسلامی ذہن یہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو دوسروں کا ہم قوم سمجھیں، وہ دوسروں کو اے میری قوم کے لوگو، کہہ کر خطاب کر سکیں، جیسا کہ تمام پیغمبروں نے کیا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تم کو شعوب اور قبائل میں تقسیم کر دیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو (الحجرات ۱۳) اس آیت میں شعب سے مراد وطنی اشتراک سے بننے والی قوم ہے اور قبیلہ سے مراد نسلی اشتراک سے بننے والا گروہ۔ قرآن کے مطابق، یہ دونوں قسم کی گروہ بندی صرف تعارف کے لیے ہے، وہ عقیدہ یا مذہب کے رشتہ کو بتانے کے لیے نہیں۔

۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں مولانا حسین احمد مدنی نے کہا تھا کہ” فی زمانہ قومیں اوطان سے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page