Al-Risala · February 2004 · page 27

مطالعة قرآن مسائل اجتهاد دین و شریعت

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۲۷

اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتی۔ جیسے روشنی ہر ایک کے پاس آتی ہے مگر وہ کسی سے خوش اور کسی سے خفا نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ اسی طرح ایک دوسرے کے مکمل ساتھی ہوتے ہیں۔ جیسے باغ کے درخت ایک دوسرے کے ساتھ بغیر کسی قسم کی باہمی رنجش کے ایک مقام پر کھڑے ہوئے ہوں۔ اسلام کے رزق سے آدمی کو حصہ ملا ہے یا نہیں، اس کی ایک واضح پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے درمیان اس طرح رہنے لگے کہ اس کو نہ کسی سے بغض ہو اور نہ کسی سے حسد۔ کسی قابل شکایت بات پیش آنے پر وہ اپنے بھائی سے بگڑ نہ جاتا ہو، وہ سارے لوگوں کو اللہ کی عیال سمجھ کر اس طرح رہ رہا ہو جیسے ایک باپ کی اولاد دل جل کر رہتی ہے۔ اس قسم کا ذہن جس شخص کے اندر پیدا ہو جائے وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے ایسا ہو جائے گا کہ کسی بھائی سے اگر اس کا بگاڑ ہو جائے اور وقتی تاثر سے مغلوب ہو کر وہ اس سے جدائی اختیار کر لے تو تین دن گزرتے گزرتے اس کا سینہ پھٹنے لگے گا۔ وقتی جذبہ نے اس کو جس بھائی سے دور کیا تھا، اس سے وہ اپنے رب کی خاطر دوبارہ اس طرح مل جائے گا جیسے کہ اس کے ساتھ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

مطالعة قرآن مسائل اجتهاد دین و شریعت

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page