۹۔ زندگی کی مددگار
الرسالہ، جون ۲۰۰۴
وہ اس کی اطاعت کرے۔ اور اگر وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کردے اور اگر وہ اس پر قسم کھا لے تو وہ اس کو پورا کرے اور اگر وہ اس سے غائب ہو تو وہ اپنے نفس اور اُس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے (عن ابی امامة عن النبی ﷺ انہ یقول : ما استفاد المؤمن بعد تقوی اللہ خیراً له من زوجة صالحة ان امرها اطاعته و ان نظر الیها سرّته و ان أقسم علیه ابرّته و ان غاب عنها نصحته فی نفسها و مالہ)۔
ابن ماجہ، بحوالہ مشکوٰة المصابیح، جلد ۲، صفحہ ۹۳۰ (رقم الحدیث ۳۰۹۵) یہ بات اپنے وسیع تر مفہوم میں عورت اور مرد دونوں کے اوپر منطبق ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین جوڑا اُسی وقت بن سکتے ہیں جب کہ دونوں اپنے اندر مذکورہ صفات پیدا کر لیں۔
مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے تکملہ (complement) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنے وجود کو مکمل کرتا ہے۔ عورت کے بغیر مرد کی زندگی نامکمل ہے اور اسی طرح مرد کے بغیر عورت کی زندگی نامکمل ہے۔
عورت اور مرد دونوں اپنی زندگی کا یہ فریضہ صرف اس طرح ادا نہیں کر سکتے کہ وہ نکاح کر کے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں منسلک ہو جائیں۔ اسی کے ساتھ اُنہیں ایک اور کام کرنا ہے۔ اس اعتبار سے وہ اپنے شعور کو بیدار کریں۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دونوں اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کریں۔ دونوں کے لیے اُن کا گھر ایسا مدرسہ بن جائے جس میں شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے ٹیچر بھی ہوں اور اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اسٹوڈنٹ بھی۔ اس دوسرے پہلو سے دونوں کے درمیان رشتہ کی مضبوطی ان کی ازدواجی زندگی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ حدیث کے یہ الفاظ بے حد اہم ہیں کہ وہ اس کے مال میں خیر خواہی کرے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہترین عورت وہ ہے جو گھر کی آمدنی کو صحیح طور پر خرچ کرے۔ وہ انتظام مال (money management) میں پوری طرح اپنے شوہر کی مدد گار ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues