Al-Risala · April 2005 · page 18

ہلم نقاتل هلم نقاتل فان القتال سبيل الرشاد

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۱۸

کا ایک صحیح نسخہ لکھا جائے اور پھر بہت کم مدت میں اس کی لاکھوں کاپیاں تیار کر لی جائیں۔ اس طرح چھپی ہوئی کتابوں کے ذریعہ اشاعتِ اسلام کا عمل سیکڑوں گنا زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہو گیا۔ کتابوں کے مطالعہ کے ذریعہ لاکھوں لوگ اپنے آپ اسلام کے قریب آئے۔ مثلاً ہنگری کے مستشرق ڈاکٹر عبد الکریم جر مانوس نے اسی طرح کتابوں کے ذریعہ سے اسلام کو جانا اور اس کو قبول کر لیا۔ ۲۔ موجودہ زمانہ میں نئی قسم کی تیز رفتار سواریاں وجود میں آئیں، اسٹیم شپ، ریلوے ٹرین، موٹر کار، ہوائی جہاز، وغیرہ۔ ان نئی سواریوں کی ایجاد کے بعد سفر بہت زیادہ بڑھ گیا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ دنیا میں اختلاط (interaction) میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔ لوگ دنیا کے ہر حصہ میں آنے اور جانے لگے۔ اس طرح انسانی اختلاط کے دوران براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دعوت کا عمل ہونے لگا۔ اس کی ایک مثال آسٹریا کے لیو پولڈ اسد کی ہے۔ وہ جرنلسٹ کے طور پر سعودی عرب گئے ۔ وہاں لوگوں سے ملاقاتوں کے دوران انہوں نے اسلام کو دریافت کیا اور پھر بطور خود اسلام میں داخل ہو گئے۔

۳۔ موجودہ زمانہ میں ٹیلی ویژن نے اتنا زیادہ پھیلاؤ حاصل کیا ہے کہ ہر جگہ اور ہر گھر میں ٹی وی سیٹ پہنچ گیا ہے۔ ٹی وی نے جس طرح دوسری خبروں کو نشر کیا اسی طرح اسلام کے متعلق خبروں کو بھی وہ روزانہ نشر کرنے لگا۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کے شاہ فیصل کو جب گولی ماری گئی تو آخر وقت میں ان کی زبان سے نکلا اشهد ان لا اله الا الله وأشهد ان محمدا عبده و رسوله۔ اس واقعہ کو ساری دنیا میں ٹیلی ویژن اسکرین پر باتصویر انداز میں دکھایا گیا۔ اس طرح کے ہزاروں واقعات ہیں جو ہر دن ٹی وی اسکرین پر آتے رہتے ہیں اور اس طرح اسلام کا پیغام کسی نہ کسی صورت میں ہر گھر میں پہنچ رہا ہے۔ میرے ذاتی علم کے مطابق، دہلی کے ایک بڑے تاجر رام رتن کپلاٹی وی کے پروگراموں کو دیکھ کر اسلام سے متعارف ہوئے اور پھر اسلام قبول کر لیا۔

۴۔ سائنس کے زیر اثر موجودہ زمانہ میں جو نئی چیزیں پیدا ہوئیں اُن میں سے ایک وہ ہے جس کو روح تجسس (spirit of enquiry) کہا جاتا ہے۔ سائنس کی نئی نئی دریافتوں نے لوگوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page