رزق خدا کے ہاتھ میں
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۴
رزق خدا کے ہاتھ میں
دہلی کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ انہوں نے ایم بی اے کا کورس کیا ہے۔ وہ ایک غیر ملکی کمپنی میں سروس کرتے ہیں۔ عام غیر ملکی کمپنیوں کی طرح اس کمپنی کا اصول یہ ہے کہ ملازمت دو اور برخاست کردو (hire and fire) انہوں نے مجھ سے ملاقات کی اور کہا کہ بظاہر میں ایک اچھی ملازمت میں ہوں۔ مگر مجھے ہر وقت ٹنشن رہتا ہے۔ ہر وقت سروس کھونے کا اندیشہ (fear of losing job) پریشانی میں مبتلا کیے رہتا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ کی پریشانی ایک نفسیاتی پریشانی ہے، نہ کہ کوئی حقیقی پریشانی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ رزق کی تقسیم خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ خدا جس کو چاہے دے اور خدا جس کو چاہے محروم کردے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کو ایک سادہ فارمولا دیتا ہوں۔ اس کو آپ اپنے ذہن میں بٹھالیجیے اور پھر آپ کو کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ وہ فارمولا یہ ہے ــــ ایک شخص آپ کی سروس کو چھین سکتا ہے مگر کوئی شخص اتنا طاقتور نہیں کہ وہ آپ سے آپ کی قسمت کو چھین لے :
One can take away your job, but no one has the power to take away your destiny. کہیں میری سروس نہ چلی جائے ـــ اس خیال میں فکرمند ہونے کے بجائے آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اتنا زیادہ لائق بنائے کہ کوئی شخص اُس کی سروس ختم کرنے کی ہمت ہی نہ کرسکے۔ اس مسئلہ کا حل اندیشہ میں مبتلا ہونا نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کو زیادہ کارآمد بنانا ہے، اپنے آپ کو دوسروں کے لیے مفید تر بنانا ہے۔ کوئی بھی شخص ایک کارآمد انسان کو کھونے کا تحمل نہیں کرسکتا۔ یہ صرف نا کارہ لوگ ہیں جو محروم کیے جاتے ہیں، اور پھر اپنی محرومی پر شکایت کا دفتر کھول دیتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی فطری صلاحیت پر بھروسہ کرے نہ کہ دوسروں کے رویہ پر۔ ہر آدمی کی قسمت اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ مگر غلطی سے وہ اس کو دوسرے کے ہاتھ میں سمجھ لیتا ہے۔