Al-Risala · May 2005 · page 10

انسان کا کم تر اندازہ نہ کیجئے

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۱۰

انسان کا کم تر اندازہ نہ کیجئے

کوئی بھی آدمی آپ کا پیدائشی دشمن فہمیں۔ آپ خود اپنے عمل سے کسی کو اپنا دشمن اور کسی کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی مسلم حقیقت ہے جو ہر دور میں اور ہمیشہ صحیح ثابت ہوئی ہے۔ اگرچہ دنیا میں ایسے دانش مند انسانوں کی کمی ہے جو اس حقیقت کو سمجھیں اور اس کو اپنے حق میں استعمال کریں۔ انسان کوئی پتھر فہمیں۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے اندر احساس رکھتا ہے۔ جو حالات سے متاثر ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ باتوں کو دلائل کی روشنی میں جانچے اور صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرے۔ حق اور ناحق کے درمیان تمیز کرنا، یہ انسان کی ایک ایسی صفت ہے جس میں وہ ساری کائنات میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔

انسان کی اس صلاحیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو بدل سکتا ہے۔ کسی پتھر کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو بدل لے۔ مگر انسان کی یہ امتیازی صفت ہے کہ وہ اپنے آپ کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی انسان کو مستقل طور پر اپنا دشمن سمجھ لینا انسان کا کم تر اندازہ ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو چاہیے کہ اگر کوئی شخص بظاہر آپ کو اپنا دشمن دکھائی دے تو آپ اس کو اپنا مستقل دشمن نہ سمجھ لیں۔ بلکہ یہ یقین رکھیں کہ آپ اس کو اپنے حسن عمل سے اپنا دوست بنا سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص آپ کے بارہ میں غلط نہی میں مبتلا ہو گیا ہے تو اس کی غلط نہی کو دور کیجئے ۔ کسی کو آپ سے سخت رویہ کی شکایت ہے تو اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیجئے ۔ کوئی آپ کو بے فائدہ سمجھتا ہے تو اس کو فائدہ پہنچا کر اس کا دل جیتئے۔ ۔ کسی کو آپ سے غلط سلوک کا تجربہ ہوا ہے تو اس سے معافی مانگ کر معاملہ کو ختم کر دیجئے ۔ کسی کو آپ سے لین دین کی شکایت ہے تو اپنے لین دین کو درست کر کے اس کی شکایت رفع کیجئے ۔ دوسرے کو غلط بتانے کے بجائے خود اپنے اندر غلطی کو تلاش کیجئے ۔ اس اصول پر یقین رکھئے کہ آپ اپنے کو بدل کر ساری دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ اس دنیا میں دوستی ایک ابدی چیز ہے اور دشمنی صرف وقتی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page