مستقبل پر نظر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۱۴
مستقبل پر نظر
ایک صاحب نے اپنی لڑکی کی شادی دور افتادہ مقام پر ایک نوجوان سے کر دی۔ بعد کو معلوم ہوا کہ اس نوجوان کی معاشی حالت بہت کمزور ہے۔ اس کے پاس جو گھر ہے وہ بھی ٹوٹا پھوٹا ہے۔ سماج میں اس کو کوئی ممتاز حیثیت حاصل نہیں۔ لوگوں کو جب اس شادی کا حال معلوم ہوا تو وہ باپ کو برا بھلا کہنے لگے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے اس کے بارے میں یہ کہا کہ وہ دماغی خلل کا شکار ہے۔ مگر باپ نے اس معاملہ میں صبر کا طریقہ اختیار کیا۔ اُس نے صرف یہ کیا کہ وہ برابر اپنی لڑکی کے لیے دعا کرتا رہا۔ وہ یہ دعا کرتا رہا کہ خدایا، میری غلطی کی تلافی فرمائیے، میری لڑکی کی مدد فرمائیے، اس کو اپنی رحمتوں کے سائے میں لے لیجئے۔
اس کے بعد اس لڑکی کے یہاں چند بچے پیدا ہوئے۔ یہ بچے تندرست اور محنتی تھے۔ اُنہوں نے اپنی محنت سے تعلیم حاصل کی اور اچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔ ان کو اپنی لیاقت کی بنیاد پر اچھی سروس مل گئی۔ اب حالات بدل گئے۔ لڑکوں نے بڑے ہو کر نیا گھر بنایا۔ اُن کے پاس گاڑی اور دوسری چیزیں بھی ہو گئیں ۔ اپنے حسنِ عمل سے انہوں نے سماج میں اچھا مقام حاصل کر لیا۔ اس طرح کی مثالیں ہر سماج میں ہیں۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ انسان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ صرف حال کو دیکھ کر رائے قائم کرے۔ بلکہ اس کو مستقبل پر نظر رکھنا چاہیے۔ اس دنیا میں کوئی بھی محرومی ابدی محرومی نہیں۔ اس دنیا میں ہر انسان کے لیے یہ مواقع موجود ہیں کہ وہ محنت اور لیاقت کا ثبوت دے کر ترقی کی منزلیں طے کرے۔ وہ حال کی کمی کو مزید اضافہ کے ساتھ مستقبل میں پورا کر لے۔ کامیاب شادی کا راز یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی لڑکی کی شادی کسی امیر آدمی سے کریں۔ اسی طرح ناکام شادی یہ نہیں ہے کہ آپ کی لڑکی کی شادی کسی غریب شخص سے ہو جائے۔ اس دنیا میں آج کا امیر کل کا غریب بن جاتا ہے اور آج کا غریب کل کے دن امیر بن جاتا ہے۔ زندگی میں اصل اہمیت محنت اور منصوبہ بندی کی ہے، نہ کہ امیری اور غریبی کی۔