Follow one and respect all
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۶
۱۳۔ جاپان فاؤنڈیشن کے تحت ۱۷۔ ۲۰ فروری ۲۰۰۵ کو بنارس میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس میں انڈیا اور جاپان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر ڈسکشن کا موضوع یہ تھا: Changing Dynamics of Hinduism and Islam صدر اسلامی مرکز کو اس سیمینار میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر وہ بعض وجوہ سے اس میں شریک نہ ہو سکے۔ البتہ موضوع پر دو صفحہ کی ایک تحریر انہیں بھیج دی گئی جس کو سیمینار میں پڑھ کر سنایا گیا۔ ۱۴۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۰ فروری ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ۱۰ محرم کو لکھنؤ میں تعزیہ کے جلوس کے سلسلہ میں شیعہ۔ سنی جھگڑا ہو گیا۔ اس میں کچھ افراد مارے گئے۔ یہ انٹرویو اسی کے بارے میں تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ تعزیہ کے جلوس کے سوال پر اکثر فساد ہوتا ہے۔ یہ سراسر غیر اسلامی ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ جلوس کو بند کرنے یا اس کی روٹ بدلنے کا مطالبہ کیا جائے۔ اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ اس سے اختلاف رکھتے ہیں وہ اس پر صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کریں۔
۱۵۔ ہندی روزنامہ نو بھارت ٹائمس (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر بندھیر کمار نے ۲۲ فروری ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوال و جواب کا تعلق زیادہ تر صوفی ازم سے تھا۔ بتایا گیا کہ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان میل ملاپ بڑھانے کی تدبیر یہ ہے کہ یہاں صوفی کلچر کو زندہ کیا جائے۔ صوفی کلچر صلح کل پر مبنی ہے۔ صوفی تعلیمات یہ ہیں کہ ہر ایک کے ساتھ محبت اور رواداری کا معاملہ کیا جائے۔ صوفی کلچر کا ایک چھوٹا سا نمونہ اب بھی صوفیوں کے مزار پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں آج بھی ہندو اور مسلمان دونوں کے درمیان میل ملاپ کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ اسی میل ملاپ کو پورے ملک میں عام کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ کشمیر کے مسئلہ کا حل وہی ہے جو پنجاب میں خالصہ تحریک کے مقابلہ میں اختیار کیا گیا۔ یعنی لوگوں کی سوچ کو بدل کر ان کے اندر سے علیحدگی کا رجحان ختم کرنا۔
۱۶۔ صدر اسلامی مرکز کی تقریروں کے کچھ ویڈیو کیسیت تیار کیے جا رہے ہیں۔ فی الحال دو ویڈیو کیسیت تیار ہوا ہے۔ ایک کا عنوان ہے، حج کی حقیقت اور دوسرے کا عنوان ہے، نماز کی حقیقت۔ اسی طرح دوسرے اسلامی موضوعات پر بھی ویڈیو کیسٹ انشاء اللہ تیار کیے جائیں گے۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیل دفتر سے معلوم کی جا سکتی ہے۔
۱۷۔ چند نئی کتابیں تیار ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک نشان منزل ہے۔ دوسو آٹھ صفحہ کی یہ کتاب زیر طبع ہے۔ یہ کتاب راز حیات اور کتاب زندگی کے انداز پر لکھی گئی ہے۔