Al-Risala · July 2005 · page 12

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۱۲

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۱۲

شخصیت کی تعمیر

قرآن کی سورہ نمبر ۸۳ میں اہل تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون یکسبون(التطفیف ۱۴) یعنی ان کے دلوں پر اُن کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ اس آیت میں ایک نفسیاتی معاملہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو ان لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے جو ضد اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اس معاملہ کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عن ابی ہریرۃ قال قال رسول الله صلى الله علیه وسلم: ان المومن اذا اذنب کانت نكتة سوداء فی قلبه فان تاب ونزع واستغفر صقل قلبه وإن زاد زادت حتى یعلو قلبه (ابن ماجه، كتاب الزهد، مسند احمد، جلد ۲، صفحه ۲۷۹)۔ یعنی مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا دھبہ پڑ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرے اوراُس کو مٹادے اور استغفار کرے تو اس کا دل دھبہ سے پاک ہو جاتا ہے۔ اور اگر دھبہ میں مزید اضافہ ہو تو وہ بڑھتار ہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ یہ تمثیل کی زبان میں ایک نفسیاتی معاملہ کو بتایا گیا ہے۔ جب کوئی انسان برائی کرے اور پھر وہ جلد ہی متنبہ ہو جائے۔ وہ برائی کے احساس کو اپنے دل سے نکال ڈالے تو اس کا دل پاک وصاف ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ آدمی ایک کے بعد ایک برائی کرتا رہے۔ وہ اپنا محاسبہ کر کے اپنے دل سے اس کے اثر کو زائل نہ کرے تو دھیرے دھیرے اس کا پورا دل بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اب وہ برائیوں ہی میں جینے لگتا ہے اور سچائی کی بات اس کو متاثر نہیں کرتی۔

جدید نفسیاتی مطالعہ نے اس معاملہ کو مزید واضح کیا ہے۔ اب یہ بات ایک پر اسرار عقیدہ نہیں رہی، بلکہ وہ ایک معلوم حقیقت بن گئی ہے۔ اب وہ خالص علمی اعتبار سے انسان کے لیے قابل فہم ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دماغ کے تین بڑے حصے ہیں۔ یہ تینوں حصے ہر عورت اور ہر مرد کے دماغ میں پائے جاتے ہیں۔ وہ پیدائشی طورپر ہر انسانی دماغ کا حصہ ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page