Al-Risala · July 2005 · page 18

جیسا بونا ویسا کاٹنا

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۱۸

بعد از موت دور حیات میں تم اپنی پسند کی دنیا پا سکو۔ جنت اگلی دنیا میں بنے گی، لیکن جنتی انسان آج ہی کی دنیا میں بن رہا ہے۔

جنت کیا ہے۔ موجودہ دنیا کو دیکھ کر جنت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ دنیا ایک اعتبار سے گویا جنت کا تعارف ہے۔ یہ جنت کا ایک بہت چھوٹا نمونہ ہے۔ جنت دراصل موجودہ دنیا کا تکمیلی ایڈیشن ہے۔ موجودہ دنیا میں جو نعمتیں ہیں وہی تمام نعمتیں جنت میں بھی ہیں، فرق یہ ہے کہ موجودہ دنیا ناقص ہے اور جنت اس کے مقابلہ میں کامل۔ موجودہ دنیا غیر معیاری ہے اور جنت کی دنیا معیاری۔ موجودہ دنیا فانی ہے اور جنت کی دنیا ابدی۔ موجودہ دنیا میں خوف اور حزن ہے، یہاں شور اور تکلیف ہے جبکہ جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ حزن، جہاں نہ شور ہوگا اور نہ ہی تکلیف۔ موجودہ دنیا محدودیت اور ڈس ایڈوانٹج سے بھری ہوگی۔ جب کہ جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ محدودیت ہوگی اور نہ کسی قسم کا ڈس ایڈوانٹج۔ جنت میں انسان کو فل فلمنٹ حاصل ہوگا جب کہ موجودہ دنیا میں کسی کو بھی فل فلمنٹ حاصل نہیں ہوتا۔

جہنم وہ جگہ ہے جو اس کے بالکل برعکس ہوگی۔ جہنم کی دنیا میں وہ تمام تکلیفیں مزید اضافہ کے ساتھ جمع کردی جائیں گی جن کا تجربہ ہم موجودہ دنیا میں کرتے ہیں۔

موت سے پہلے کا دور اور موت کے بعد کا دور، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کے درمیان وہی نسبت ہے جو بونے اور فصل کاٹنے میں ہوتی ہے۔ موت سے پہلے کا زمانہ گویا بونے کا زمانہ ہے، اور موت کے بعد کا زمانہ گویا فصل کاٹنے کا زمانہ۔ جیسا بونا ویسا کاٹنا، یہ ایک ابدی اصول ہے۔ یہ اُصول بعد از موت دورِ حیات پر بھی اتنا ہی منطبق ہوتا ہے جتنا کہ قبل از موت دورِ حیات پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page