خاندانی زندگی
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۹
خاندانی زندگی
شادی شدہ زندگی کو خوشگوار بنانے کا راز کیا ہے۔ وہ صرف ایک ہے ـــــ ناخوشگواری میں خوشگواری کو دریافت کرنا۔ نا پسندیدہ صورتِ حال کو اپنے لیے پسندیدہ بنا دینا۔ اس کو ایک لفظ میں یہ کہہ سکتے ہیں: The art of situation management اصل یہ ہے کہ کوئی بھی عورت یا مرد اسٹیچو نہیں ہوتے۔ فطری نقشہ کے مطابق، ہر عورت اور ہر مرد کی سوچ الگ ہوتی ہے۔ ہر ایک کا ذوق ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ ایک اور دوسرے کے درمیان یہی وہ فرق ہے جو دونوں کے درمیان ناخوشگواری پیدا کرتا ہے۔
جب ایسا ہوتا ہے تو دونوں فریق یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ اس کا ذمہ دار فریقِ ثانی کو بنا لیتے ہیں اور پھر اس سے جھگڑنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ فرق واختلاف کی جو صورتِ حال پیدا ہوئی ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے فطرت کی پیدا کی ہوئی ہے نہ کہ کسی عورت یا کسی مرد کی۔ اگر دونوں اس راز کو سمجھ لیں تو کوئی مسئلہ زیادہ شدت اختیار نہ کرے، ہر مسئلہ اپنی حد کے اندر رہے اور دونوں فریق اس کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جائیں۔
انسانوں کے درمیان فرق واختلاف کوئی برائی نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک خوبی ہے۔ اسی فرق و اختلاف سے ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈائیلاگ ہوتا ہے۔ بحث و گفتگو کے دوران معاملہ کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ اس طرح یہ اختلاف ذہنی ترقی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اگر لوگوں کے درمیان اختلاف نہ ہو تو زندگی جمود کا شکار ہو کر رہ جائے گی۔
فطرت نے اپنی تقسیم میں یہ طریقہ رکھا ہے کہ کسی کے اندر ایک صلاحیت ہوتی ہے اور کسی کے اندر دوسری صلاحیت۔ اگر فرق واختلاف کو نظر انداز کیا جائے تو ہر ایک کی صلاحیت استعمال ہونے لگے گی۔ ہر ایک اپنی اضافی لیاقت کے ذریعہ دوسرے کے لیے قیمتی مددگار بن جائے گا۔ ہر ایک دوسرے کی کمی کی تلافی کرنے لگے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues