مشورہ کی اہمیت
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۵
مشورہ کی اہمیت
ایک مسلم نوجوان نے ایک تعلیم یافتہ خاتون سے شادی کی۔ یہ لوگ کچھ برسوں تک ایک ساتھ رہے۔ پھر ان کے یہاں دو بچے پیدا ہوئے۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ یہاں تک کہ بیوی اپنے دونوں بچوں کو لے کر اپنے میکہ چلی گئی۔ اب دونوں کے درمیان ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی۔ دونوں طرف سخت باتیں ہونے لگیں۔ اس طرح کا موقع بحران کی تنظیم (crisis management) کا موقع ہوتا ہے۔ بحران کو اگر حکمت کے ساتھ دور کر لیا جائے تو وقتی تلخی کے بعد دوبارہ دونوں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہو جائیں گے۔ لیکن اگر بحران کو درست طور پر حل نہ کیا جائے تو معاملہ اور زیادہ بڑھ جائے گا اور پوری زندگی تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ جب کوئی شخص بحران میں مبتلا ہو تو وہ خود زیادہ معتدل انداز میں سوچ نہیں پاتا۔ وہ منفی سوچ یا انتہا پسندی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں مشورہ کی بے حد اہمیت ہے۔ ایسے وقت میں صاحب معاملہ کے ساتھیوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ٹھنڈے ذہن سے سوچ کر معاملہ کی نزاکت کو سمجھیں اور بحران میں مبتلا شخص کو صحیح مشورہ دیں۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بحران کی حالت میں مشورہ دینے والے خود بھی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً مذکورہ معاملہ میں جو شخص بحران میں مبتلا ہوا اس کے کچھ ساتھیوں نے اس کو یہ مشورہ دیا کہ تم موجودہ بیوی کو طلاق دے دو اور دوسری شادی کر لو۔ مگر یہ مشورہ سخت تباہ کن تھا۔ اس مشورہ پر عمل کرنے کا یقینی نتیجہ یہ تھا کہ آدمی چھوٹے مسئلہ سے نکل کر زیادہ بڑے مسئلہ میں اپنے آپ کو مبتلا کر دے۔ مجھے معلوم ہوا تو میں نے اس آدمی کو مشورہ دیا کہ تم یک طرفہ بنیاد پر اپنی بیوی کے ساتھ مصالحت کرو۔ اپنی زبان پر کنٹرول رکھو۔ بیوی کو یا اس کے رشتہ داروں کو ہرگز برا نہ کہو اور پھر بیوی کے ساتھ معتدل انداز میں نئی زندگی شروع کر دو۔ اس نے ایسا ہی کیا اور اب دونوں پرسکون طور پر ایک گھر میں رہ رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues