توحید کا عقیدہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵
کچھ بنا لیتا ہے۔ اس کا جینا اور مرنا خدا کے لیے بن جاتا ہے۔ اس کی پوری خدا رخی زندگی (God-oriented life)بن جاتی ہے۔
دین کا اصل نشانہ حکومت الہیہ نہیں ہے۔ دین کا اصل نشانہ معرفت الہیہ ہے۔ انسان خدا کی معرفت حاصل کرے۔ اس کو سچائی کا عرفان ہو جائے ۔ اُس کی روح خدا کی دریافت سے چمک اُٹھے۔ اُس کی شخصیت کامل طور پر عارفانہ شخصیت بن جائے۔ یہی دین کا اصل مقصود ہے۔ اس اعتبار سے دین کا اصل نشانہ فرد ہے، نہ کہ اجتماع۔
سیاسی اقتدار کی حیثیت اسلام میں مطلوب ثانوی کی ہے نہ کہ مطلوب اول کی۔ اسی لیے قرآن میں اُس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: وَأخرى تحبونها ، نصر من الله وفتح قريب (الصّف) معرفتِ خداوندی کے دو درجے ہیں۔ ایک روایتی معرفت، اور دوسرے علمی معرفت ۔ قبل سائنسی دور میں انسان کے لیے روایتی معرفت ممکن ہوتی تھی ۔ بعد سائنسی دور میں انسان کے لیے علمی معرفت ممکن ہوگئی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مثل امتى كمثل المطر لا يدرى اوله خير ام آخره ( میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہیں معلوم کہ اُس کا پہلا دور زیادہ اچھا ہے یا اُس کا دوسرا دور زیادہ اچھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues