اسلام ہر زمانے کے لیے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۱۳
دور، ہجرت سے پہلے مکی دور کو دعوت کا دور سمجھا جاتا ہے اور ہجرت کے بعد مدنی دور کو جہاد کا دور۔ اس تقسیمی طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہے کہ مکی دور کی کئی تعلیمات کو مدنی دور پیش آنے کے بعد منسوخ سمجھ لیا گیا ہے۔ مثلاً مکہ کے دعوتی دور میں صبر اور اعراض اور تالیفِ قلب اور مدعو گروہ کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک، وغیرہ۔ مگر مدنی دور میں ان تعلیمات کو منسوخ کر کے فریق ثانی سے صرف قتال کا حکم دے دیا گیا۔
ناسخ اور منسوخ کا اصول اسلامی شریعت کا ایک اہم اصول ہے۔ مگر یہ حکم حالات کے تابع ہے، یعنی حالات کے بدلنے سے ایک حکم منسوخ قرار پائے گا۔ مگر دوبارہ جب سابقہ حالات پیدا ہو جائیں تو اس وقت منسوخ چیز دوبارہ جائز اور مطلوب ہو جائے گی۔ اس اصول کا لحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے اسلام کے بعد کی تاریخ میں بہت بڑا نقصان واقع ہوا ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیا گیا کہ مدنی دور میں جو احکام منسوخ ہوئے تھے وہ ہمیشہ کے لیے منسوخ ہو گئے۔
اس مفروضہ کی بنا پر یہ ہوا کہ صبر اور اعراض اور تالیفِ قلب اور مدعو کے ساتھ ناصحانہ معاملہ امت کے حافظہ سے عملاً محو ہو گیا ہے۔ اسی کا یہ شدید تر نتیجہ ہوا کہ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری بھی عملاً فراموش کر دی گئی۔ دعوت ایک ایسا عمل ہے جو صبر اور اعراض اور تالیفِ قلب اور مدعو کے ساتھ خیر خواہی کا طالب ہے۔ جب یہ اخلاقیات منسوخ قرار پائیں تو فطری طور پر یہ ہوا کہ دعوت کا کام بھی عملی طور پر ایک منسوخ حکم بن گیا۔
اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں جب حدیث اور فقہ کی کتابیں لکھی گئیں اور دوسرے اسلامی موضوعات پر تصنیفات تیار کی گئیں تو ان تمام کتابوں میں دعوت الی اللہ کا باب حذف ہو گیا۔ اب یہ ہوا کہ ان تمام کتابوں میں جہاد اور قتال کا باب تفصیل کے ساتھ شامل کیا گیا۔ مگر پر امن دعوت کا باب غالباً کسی بھی کتاب میں درج نہ ہو سکا۔
اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ناسخ اور منسوخ کو کوئی حتمی حکم نہ سمجھا جائے۔ بلکہ ان کو حالات پر مبنی قرار دیا جائے۔ اس طرح یہ ہوگا کہ ایک طرف دعوت الی اللہ کا متروک عمل زندہ ہو جائے گا اور دوسری
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues