اسلامی نظام
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵
تحت افراد اور ادارہ مکی سطح پر اسلام کی پیروی جاری رکھی جائے گی۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر حضرت یوسف نے اپنے وقت کے مشرک بادشاہ سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ ایک عادل بادشاہ تھا اور اس کے تحت وہ توحید کے تقاضے پورے کرتے ہوئے رہ سکتے تھے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کے اصحاب کی دور کے آخر میں مکہ سے ہجرت کر کے حبش گئے۔ اس وقت وہاں ایک عیسائی بادشاہ کی حکومت تھی۔ اصحابِ رسول نے اس سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ ایک عادل بادشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔
یہ تصور کہ اسلام ایک معیاری سماجی نظام ہے اور اس کو دنیا میں عملاً قائم کرنا امت مسلمہ پر فرض ہے، یہ نظریہ اسلام کے اصل مقصد کے خلاف ہے، وہ اسلام کے نشانہ کو بدل دینے والا ہے۔ اسلام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ ہر فرد خدا کی معرفت حاصل کرے ۔ ہر فرد عبادت اور اخلاقیات میں ربانی بنے۔ ہر فرد فلاحِ آخرت کو اپنا ہدف بنائے۔ مگر مذکورہ نظریہ آخرت کے بجائے دنیا کو آدمی کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ وہ تعمیرِ آخرت کے بجائے تعمیر دنیا کو اپنی منزل مقصود سمجھ لیتا ہے۔ اسلام ایک ربانی مذہب ہے۔ مگر مذکورہ تصور اسلام کو ایک مادی اور سیاسی مذہب میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اسلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی خدا کو دریافت کرے۔ وہ اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے۔ وہ اپنے روزمرہ کے واقعات میں حقیقتِ اعلیٰ کی جھلکیاں دیکھنے لگے۔ وہ دنیا کی زندگی کو فتنہ (آزمائش) اور آخرت کی زندگی کو اصل مطلوب سمجھنے لگے۔ جو آدمی اس قسم کا ذہن رکھتا ہو اس کے لیے موجودہ دنیا میں معیاری قسم کا سماجی اور سیاسی نظام بنانا ایسا ہی ہے جیسے کہ ٹرین کا کوئی مسافر کسی پلیٹ فارم پر اپنی پسند کا گھر بنانے لگے۔
قرآن میں جنت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: لِمثْلِ ہذا فلیعمل العاملون (الصافات (٦١) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا عیش الا عیش الآخرة (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب ما جاء فی الرقاق، وأن لا عیش الا الآخرة) اس طرح کی تعلیمات قرآن و حدیث میں کثرت سے آئی ہیں۔ ان تعلیمات سے ایک
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues