Al-Risala · September 2005 · page

اعلیٰ عبادت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

اعلیٰ عبادت

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المؤمن الذي يخالط الناس ويصبر علی اذاهم اعظم اجرا من الذي لا يخالطهم ولا يصبر علی اذاهم (ابن ماجہ، کتاب الفتن، الترمذی، کتاب القیامة، مسند احمد ۲/ ۲؍۴۳) یعنی وہ مومن جو لوگوں کے ساتھ اختلاط کرتا ہے اور ان کی ایذاءءؤں پر صبر کرتا ہے اس کا اجر اس مومن سے زیادہ بڑا ہے جو کہ لوگوں کے ساتھ اختلاط نہیں کرتا اور ان کی ایذاؤں پر صبر نہیں کرتا۔

اس حدیث میں اختلاط (interaction) سے مراد سادہ طور پر صرف اختلاط نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد وہ اختلاط ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کی طرف سے ایذا کا تجربہ پیش آئے۔ اختلاط اپنے آپ میں ایذا کا سبب نہیں ہے۔ اگر آپ لوگوں سے اس طرح ملیں کہ لوگوں سے میٹھے انداز میں بولیں، لوگوں کے ساتھ سمجھوتے کا طریقہ اختیار کریں، آپ لوگوں سے تفریحی باتیں کریں، آپ اپنے کلام میں وہ باتیں بولیں جو لوگ سننا چاہتے ہیں تو آپ لوگوں کی نظر میں ہر دل عزیز بن جائیں گے۔ پھر آپ کو لوگوں کی طرف سے صرف اچھے سلوک کا تجربہ آئے گا۔

مثلاً اگر آپ دو قوموں کے جھگڑے میں اپنی قوم کی ہر حال میں وکالت کریں اور دوسری قوم کو ہر حال میں بُرا بتائیں تو یقینی طور پر آپ کی قوم آپ کو اپنا ہیرو بنا لے گی۔ اگر آپ لوگوں کو ایسی باتیں بتائیں جس میں ان کو اپنے فخر پسند مزاج کی غذا ملتی ہو تو کوئی آپ کو کیوں ستائے گا۔ اگر آپ لوگوں کو ایسی کہانیاں سنائیں جن میں انہیں سستی قیمت پر جنت مل رہی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ لوگ آپ کو ستانے کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ لوگوں کے اقتصادی مطالبات، ان کی قومی شکایتیں، ان کے سیاسی موقف کو درست مان کر اگر آپ وہ بولی بولیں جس میں انہیں اپنا موقف درست نظر آتا ہو تو کوئی شخص بھی آپ کو ستانے والا نہیں ملے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں اختلاط سے مراد مجرد اختلاط نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد وہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page