قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۴
خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۷۱
۱۔ اسلامی مرکز میں ہفتہ وار اسپر چول کلاس کا سلسلہ پابندی کے ساتھ جاری ہے۔ یہ کلاس ہر اتوار کو شام ۵ بجے سے ۷ بجے تک ہوتی ہے۔ ۱۵ مئی ۲۰۰۵ سے اس میں ایک اضافہ کیا گیا ہے۔ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے ہر اتوار کی شام ساڑھے تین بجے سے پانچ بجے تک اردو اور عربی زبان کی کلاس ہوتی ہے۔ اس میں لوگ نہایت دلچسپی کے ساتھ شریک ہورہے ہیں۔ یہ ایک قسم کی لینگویج کلاس ہے۔ اس طرح ہر اتوار کو پہلے ڈیڑھ گھنٹہ کی لینگویج کلاس ہوتی ہے اور اس کے بعد دو گھنٹہ کی اسپر چول کلاس۔
۲۔ سائی انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ۱۸ مئی ۲۰۰۵ کو ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں آرمی اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں ایک گھنٹہ کی تقریر کی۔ تقریر کا موضوع یہ تھا: بنیادی انسانی افکار اور اسلام۔ قرآن وحدیث میں دی ہوئی انسانی اور اخلاقی تعلیمات کو بتایا گیا۔ اس سلسلہ میں خصوصیت کے ساتھ یہ بات بتائی گئی کہ اسلام کی تعلیمات میں ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو محاسبہ آخرت (accountability) کہا جاتا ہے۔ اسلام کی یہ تعلیم اخلاقی سلوک کے لیے محرک فراہم کرتی ہے۔ یہ تعلیم حسن اخلاق کو ہر آدمی کا ذاتی انٹرسٹ بنا دیتی ہے۔ کیوں کہ اس کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اگر اُس نے دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تو آخرت میں اٗس کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہیں کیا جائے گا۔
۳۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۹ مئی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر خودکش بمباری کے بارے میں تھا۔ بتایا گیا کہ خودکش بمباری اسلام میں حرام ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ خودکش بمباری حملہ آور کے خلاف بھی جائز نہیں۔ خودکش بمباری میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مار کر دوسرے کو مارتا ہے۔ یہ واضح طور پر خودکشی ہے۔ اس کو استشہاد (طلب شہادت) کہنا سراسر غلط ہے۔ اسلام میں شہید ہونا ہے، اسلام میں شہید کروانا نہیں ہے۔ خودکش بمباری کے اس طریقے نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو بہت زیادہ بدنام کیا ہے۔ کچھ عرب علماء نے اگر چہ خودکش بمباری کو جائز قرار دیا ہے۔ مگر یہ سب سیاسی فتوے ہیں۔ کسی فتویٰ کے ذریعہ حرام کو حلال نہیں کیا جاسکتا۔
۴۔ آج تک ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۰ مئی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو مسٹر بریش بنرجی (Biresh Banerjee) تھے۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر تعلیمی داخلہ میں رزرویشن سے تھا۔ یعنی مسلمانوں کو حکومت ہند کی اس پالیسی سے اتنا فائدہ ملے گا جس کے مطابق مسلم یونیورسٹی میں مسلمانوں کو پچاس فیصد رزرویشن دیا گیا ہے (ٹائمس آف انڈیا، ۲۰ مئی ۲۰۰۵) جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس سے ہندوستانی مسلمانوں کو کوئی حقیقی فائدہ ملنے والا نہیں۔ ہندوستان میں ۲۰ کروڑ سے زیادہ مسلمان ہیں۔ ان میں سے صرف چند لوگ رزرویشن کی اس پالیسی سے بظاہر فائدہ اٹھائیں گے۔ مگر اس کا نقصان تمام مسلمانوں کو پہنچے گا۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے عام طور
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues