جیسا بونا ویسا کاٹنا
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۷۰
عمل کرے گا وہ بعد از موت دَورِ حیات میں اپنی پسند کی دنیا پاسکے گا۔ جنت اگلی دنیا میں بنے گی مگر جنتی انسان آج ہی کی دنیا میں بن رہا ہے۔
جنت کیا ہے۔ موجودہ دنیا کو دیکھ کر جنت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ دنیا ایک اعتبار سے گویا جنت کا تعارف ہے۔ یہ جنت کا ایک بہت چھوٹا نمونہ ہے۔ جنت دراصل موجودہ دنیا کا تکمیلی ایڈیشن ہے۔ موجودہ دنیا میں جو نعمتیں ہیں وہی تمام نعمتیں جنت میں بھی ہیں، فرق یہ ہے کہ موجودہ دنیا ناقص ہے اور جنت اس کے مقابلہ میں کامل۔ موجودہ دنیا غیر معیاری ہے اور جنت کی دنیا معیاری۔ موجودہ دنیا فانی ہے اور جنت کی دنیا ابدی۔ موجودہ دنیا میں خوف اور حزن ہے، یہاں شور اور تکلیف ہے جب کہ جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ حزن، جہاں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف۔ موجودہ دنیا محدودیت اور ڈس ایڈوانٹیج سے بھری ہوگی۔ جب کہ جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ محدودیت ہوگی اور نہ کسی قسم کا ڈس ایڈوانٹیج۔ جنت میں انسان کو فل فلمنٹ (fulfilment) حاصل ہوگا جب کہ موجودہ دنیا میں کسی کو بھی فل فلمنٹ حاصل نہیں ہوتا۔
جہنم وہ جگہ ہے جو اس کے بالکل برعکس ہوگی۔ جہنم کی دنیا میں وہ تمام تکلیفیں مزید اضافہ کے ساتھ جمع کردی جائیں گی جن کا تجربہ ہم موجودہ دنیا میں کرتے ہیں۔
موت سے پہلے کا دور اور موت کے بعد کا دور، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کے درمیان وہی نسبت ہے جو بونے اور فصل کاٹنے میں ہوتی ہے۔ موت سے پہلے کا زمانہ گویا بونے کا زمانہ ہے، اور موت کے بعد کا زمانہ گویا فصل کاٹنے کا زمانہ۔ جیسا بونا ویسا کاٹنا، یہ ایک ابدی اصول ہے۔ یہ اصول بعد ازموت دَورِ حیات پر بھی اتنا ہی منطبق ہوتا ہے جتنا کہ قبل ازموت دَورِ حیات پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues