Al-Risala · November 2005 · page 491

When the earth is turned into another earth.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۹۱

ماننا اور خدا کے وجود کو نہ ماننا ایک فکری تضاد ہے۔ کوئی بھی سنجیدہ آدمی اس فکری تضاد کا تحمل نہیں کر سکتا۔ سترہویں صدی کے مشہور فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (1650-1596 René Descartes) نے کہا تھا کہ : ”میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں:

“I think, therefore I exist.”

یہ اصول بلاشبہ ایک محکم اصول ہے۔ اس اصول کے مطابق، خود شناسی آدمی کو خدا شناسی تک پہنچاتی ہے۔ اس اصول کے مطابق، یہ کہنا درست ہوگا کہ ”میرا وجود ہے، اس لیے خدا کا وجود بھی ہے: I exist, therefore God exists. کائنات کا قابلِ تکرار نہ ہونا واضح طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کو ایک باشعور وجود نے اپنے ارادے کے تحت بنایا ہے۔ اس طرح پوری کائنات میں زمین ایک نادر استثناء ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم جو زمین پر موجود ہے وہ وسیع کائنات میں کہیں بھی موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پہلا انسان چاند پر گیا اور وہاں یہ دیکھا کہ چاند ایک خشک چٹان کے سوا اور کچھ نہیں تو اس کا یہ حال ہوا کہ جب وہ دوبارہ زمین پر اُترا تو وہ جذباتی ہجوم کے تحت زمین کے اوپر سجدے میں گر پڑا۔ کیوں کہ اُس نے زمین جیسی کوئی موافق حیات (pro-life) چیز خلا میں کہیں اور نہیں دیکھی۔ خدا ایک ثابت شدہ وجود ہے، خدا کو ماننا ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا ہے اور خدا کا انکار کرنا ایک ثابت شدہ چیز کا انکار کرنا۔

حیدر آباد میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں۔ ٹیلی فون پر آرڈر دے کر بھی کتابیں منگوائی جاسکتی ہیں:

حافظ عبد الغفار صاحب مکان 663-8-16 (بی کلاس 160)

فٹبال گراؤنڈ، جدید ملک پیٹھ، حیدر آباد 500024 موبائل : 9440340990

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page