دولت اور خوشی
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴
دولت اور خوشی
معروف صنعت کار مسٹر گوتم سنگھانیا (Gautam Singhania) کے چہرے پر لیکو ڈرما کے نشانات ہیں۔ کافی علاج کے باوجود یہ داغ ختم نہ ہو سکے۔ انھیں اپنے باپ سے ایک ہزار کروڑ روپے کا بزنس ایمپائر وراثت میں ملا ہے۔ مگر چہرے کے لیکو ڈرما کی وجہ سے وہ لوگوں کے سامنے بہت کم آتے ہیں۔ وہ بہت ذہین اور با اصول آدمی ہیں۔ انھوں نے اپنے مسائل کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے۔ گوتم سنگھانیا کی عمر ۳۹ سال ہے۔ وہ بمبئی میں رہتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا: Oh, see how bad my life is, I wish it were different. But, you have to have the wisdom to accept what you can't change. ”اُف، دیکھو کہ میری زندگی کتنی بُری ہے۔ کاش ایسا نہ ہوتا۔ لیکن آدمی کے اندر یہ ہوش مندی ہونی چاہیے کہ وہ اس چیز کو قبول کر سکے، جس کو وہ بدل نہیں سکتا۔ “ گوتم سنگھانیا نے اپنی بیماری کا بہت علاج کیا مگر مرض کچھ اور بڑھ گیا۔ وہ اب اس بیماری کو اپنا مقدر سمجھ کر اس کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے تأثرات بتاتے ہوئے کہا کہ: میرا ماننا ہے کہ دولت کے ذریعے آپ خوشی خرید نہیں سکتے۔ دنیا میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو مجھ سے زیادہ دولت مند ہیں۔ مگر وہ اپنی زندگی سے خوش نہیں۔ میں دس ایسے آدمیوں کا نام بتا سکتا ہوں جو بے شمار دولت رکھتے ہیں مگر وہ نہایت بُری حالت میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دولت، شہرت، اقتدار ـــ یہ چیزیں آپ کو خوشی نہیں دے سکتیں ۔ خوشی خود اپنے آپ سے ملتی ہے نہ کہ کسی خارجی چیز سے: “I believe money can't buy you happiness. There are hundreds and thousands of people in the world who are much richer than I am, but they are not happy with themselves. I can name 10 people who have all the money in the world, but are miserable. So, money, fame, power—these things can't make you happiness. Happiness comes from within, from being at peace with oneself.”
The Times of India (Life! ) Bombay, August 22, 2004
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues