خادم الحرمین کا انتقال
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۷
خادم الحرمین کا انتقال
سعودی عرب کے حکمراں شاہ فہد ۲ اگست ۲۰۰۵ء کو انتقال کر گئے۔ شاہ فہد ۱۹۲۳ء میں پیدا ہوئے۔ وہ مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ ۱۹۸۲ میں وہ سعودی عرب کے حکمراں بنے۔ اُن کا زمانہ حکومت سعودی عرب کی تاریخ میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی زمانے میں سعودی عرب تیل کی پیداوار میں دنیا کا سب سے بڑا ملک (oil super power) بنا۔ ساری دنیا کے لوگ تیل کی دولت کے حصول کے لیے سعودی عرب کی راجدھانی ریاض آنے لگے۔ اسی زمانے میں امریکی میگزین ٹائم نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا کہ تمام سڑکیں روم کی طرف جاتی ہیں، اب یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تمام سڑکیں ریاض کی طرف جاتی ہیں:
All roads lead to Riyadh.
شاہ فہد کا دور حکومت نہایت جاہ وجلال کا دور حکومت تھا۔ مگر ۱۹۹۵ میں اُن پر دل کا دورہ پڑا۔ اُن کی صحت نہایت کمزور ہوگئی۔ اُنھیں کنگ فیصل اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ مسلسل زیر علاج رہے۔ دس سال پہلے انھیں حکومت کے کاموں سے عملی طور پر الگ ہو جانا پڑا۔ چنانچہ حکومت کے کام ان کی نیابت میں ان کے سوتیلے بھائی شہزادہ عبداللہ انجام دینے لگے۔ شاہ فہد کے انتقال کے بعد شہزادہ عبداللہ سعودی عرب کے حکمراں مقرر کیے گئے ہیں۔ ۱۹۹۵ میں شاہ فہد کے صاحب فراش ہو جانے کے بعد سے، حکومت کا روزمرہ کا کام شاہ عبداللہ ہی سنبھالے ہوئے تھے۔ شاہ فہد کے زمانہ حکومت میں سعودی عرب کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی ۔ حرم مکی اور حرم مدنی دونوں میں غیر معمولی توسیع کی گئی۔ ان کو جدید ترین سہولتوں سے آراستہ کیا گیا۔ قرآن کی توسیع واشاعت کے لیے بہت بڑا ادارہ قائم ہوا، جس کے تحت دنیا کی تمام زبانوں میں قرآن کے ترجمے کر کے کروڑوں کی تعداد میں ساری دنیا میں پھیلا دیے گیے ۔ دنیا بھر کے مسلم اداروں اور مسلم تنظیموں کو مسلسل مدد ملتی رہی۔ مسلم حکومتوں کو مختلف قسم کی امداد فراہم کی جاتی رہی۔ انھوں نے اپنے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues