Al-Risala · January 2006 · page 32

آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۲

وجود مٹ جاتا، اور حضرت موسیٰ کے زمانے میں خروج کی نوبت ہی نہ آتی۔

سوال

میں آپ کے الالرسالہ کا قریب پانچ سال سے مطالعہ کر رہا ہوں۔ آپ کے positive approach کا قائل ہی نہیں بلکہ موجودہ حالات میں اس کو بہت ضروری سمجھتا ہوں۔

لیکن کیا کسی چیز کو صحیح ٹھہرانے کے لیے کسی اور کو غلط کہنا ضروری ہے۔ کیا کسی کی تعریف کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دوسرے کی برائی کی جائے ۔ جولائی ۲۰۰۴ء کا رسالہ میرے مطالعے میں ہے۔ کچھ سوالات ہمارے ذہن میں آئے ہیں۔ امید کرتا ہوں آپ الرسالہ ہی کے ذریعے جواب دیں گے، مشکور ہوں گا۔

۱۔ کیا آپ اپنے صحیح مشن کی طرف بغیر مولانا مودودی، ڈاکٹر اقبال اور علامہ یوسف القرضاوی کو بُرا بھلا کہے آگے نہیں بڑھ سکتے۔

۲۔ کیا دینِ اسلام کو صرف آپ ہی نے ٹھیک ٹھیک سمجھا ہے، باقی علماء گمراہ ہیں۔ ۳۔ کسی جماعت کو کریڈٹ یا discredity دینے کا حق کس کو ہے۔ ایک شخص کو، عوام کو یا کسی ایجنسی کو۔ ہو سکتا ہے یہ سوالات آپ کی نظر میں اہمیت نہ رکھتے ہوں لیکن وہ ہمارے لیے کافی اہمیت کا باعث ہیں (سید غیاث الدین، را نچی)

جواب

یہ میرے اوپر ایک بے بنیاد الزام ہے کہ میں کسی کو بُرا بھلا کہتا ہوں۔ میری کسی بھی تحریر سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ میں نے کبھی وہ کام کیا ہے جس کو بُرا بھلا کہنا بتایا جاتا ہے۔ میں جو کچھ کرتا ہوں وہ تجزیاتی تنقید ہوتی ہے اور دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک سرتا سر ناجائز ہے اور دوسرا جائز۔ حقیقت یہ ہے کہ میری تحریروں پر اس قسم کا تبصرہ وہی شخص کر سکتا ہے جو یہ نہ جانتا ہو کہ برا بھلا کہنے اور تجزیاتی تنقید کرنے میں کیا فرق ہے۔

کسی کو برا بھلا کہنا ایک حرام فعل ہے۔ اس فعل کو وہی شخص کر سکتا ہے جو خدا کی پکڑ کا خوف نہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page