دوسری آیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۱
مرتب ہوئی ۔ جس میں پہلی بار اصحابِ رسول کے دعوتی رول کو نمایاں کیا گیا۔ جس میں پہلی بار یہ بتایا گیا کہ اسلام کی سب سے بڑی طاقت اس کی دعوت ہے۔ جس میں پہلی بار وقت کے فکری مُستویٰ کے مطابق، اسلامی لٹریچر تیار کیا گیا۔ جس میں پہلی بار جدید سائنسی تحقیقات سے مدلل کرتے ہوئے دعوتی اسلوب پر علم کلام تیار کیا گیا۔ جس میں پہلی بار اس حقیقت کا انکشاف کیا گیا کہ جدید دور اپنے تمام اجزاء کے ساتھ موافق دعوت دور ہے۔ جس میں پہلی بار یہ انکشاف کیا گیا کہ غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ دشمن یا حریف کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس میں پہلی بار یہ تصور پیش کیا گیا کہ غیر مسلم ممالک ہمارے لیے دارالدعوۃ کی حیثیت رکھتے رہیں۔ جس میں پہلی بار یہ بتایا گیا کہ امتِ مسلمہ کی اصل ذمے داری یہ ہے کہ وہ ہر قوم اور ہر زبان میں دعوتِ الی اللہ کے کام کو آخری حد تک انجام دے۔ جس میں پہلی بار یہ بتایا گیا کہ مسلمانوں کے تمام ملی مسائل کا حل غیر مسلموں کے اوپر دعوتی ذمے داری کو انجام دینا ہے، کسی بھی دوسری تدبیر سے ان کے ملی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اصحابِ رسول کی حیثیت ایک دعوتی ٹیم کی تھی۔ یہ ٹیم ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے نتیجے میں بنی۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب کہ ہاجرہ اور اسماعیل کو خدا کے حکم سے صحرا میں بسادیا گیا۔ اصحابِ رسول دراصل اسی ڈھائی ہزار سالہ تاریخی پر اس کا culmination تھے۔ یہ بات قرآن میں اشارے کے طور پر اور حدیث میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ مگر اصحابِ رسول کے بارے میں اس تاریخی منصوبہ بندی سے تمام تحریکیں بے خبر ہیں۔ اسلام کے بعد کی تاریخ میں بننے والے لٹریچر میں کہیں بھی اس کی نشاندہی نہیں ملتی۔ سی پی ایس کی پشت پر پیدا ہونے والا لٹریچر ہی وہ پہلا لٹریچر ہے جس نے اصحابِ رسول کے متعلق، اس تاریخی منصوبہ خداوندی کی حقیقت کو نمایاں کیا اور سی پی ایس کی ٹیم کی ذہنی تشکیل کے لیے پہلی بار ایک تاریخی پس منظر فراہم کیا۔
جس طرح اصحابِ رسول ڈھائی ہزار سالہ تاریخی عمل کے نتیجے میں بنے تھے۔ سی پی ایس کی ٹیم کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اصحابِ رسول کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ اسی عمل کا کمینیشن (culmination) سی پی ایس کی ٹیم ہے۔ اصحابِ رسول کے دعوتی عمل کے نتیجے میں جو
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues