دوسری آیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۴
معرفت حاصل کی گئی۔ دوسرے مرحلے میں انسان اس قابل ہو جائے گا کہ وہ سائنسی فریم ورک (scientific framework) کے ذریعے خدا کی گہری اور برتر معرفت حاصل کر سکے۔ معرفتِ حق کے ان دو أدوار کو حدیث میں ایک تمثیل کی صورت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: مثل امتی مثل المطر لايدرى اوله خير ام آخره (الترمذي، كتاب الأدب، مسند احمد، جلد ۳، صفحه ۱۳۰)
یعنی میری امت کی مثال بارش جیسی ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا پہلا حصہ زیادہ اچھا ہوگا یا اس کا دوسرا حصہ۔ اس حدیث میں دراصل تاریخِ معرفت کے مذکورہ دونوں دوروں کو بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحابِ ایمان پہلے دور میں فطرت کے فریم ورک میں حق کی معرفت حاصل کریں گے اور دوسرے دور کے اہلِ ایمان کو یہ موقع حاصل ہو جائے گا کہ وہ سائنس کے فریم ورک یا علمِ انسانی کے فریم ورک میں حق کی معرفت حاصل کریں اور دوسروں کے سامنے اس کو پیش کریں۔ ان دونوں دوروں میں ایسے لوگ اٹھیں گے جو اپنے زمانے کے اعتبار سے حق کا اظہار کریں گے۔ پہلے زمانے کے لوگ فطری فریم ورک کے ذریعے یہ کام انجام دیں گے اور دوسرے زمانے کے لوگ انسانی علم کے فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے اظہارِ حق کے اس کام کو انجام دیں گے، یعنی جدید اصطلاح کے مطابق، سائنٹفک فریم ورک کے ذریعے حدیث میں پہلے دور کے گروہ کو اصحابِ رسول کہا گیا ہے اور دوسرے دور کے گروہ کے لیے اخوانِ رسول کے الفاظ آئے ہیں۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا زمانہ اگرچہ دو مختلف زمانہ ہوگا لیکن دونوں کا رول پوری طرح یکساں ہوگا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اصحابِ رسول نے اپنا رول روایتی دور میں انجام دیا تھا اور اخوانِ رسول اپنا رول سائنسی دور میں انجام دیں گے۔
اصحابِ رسول کا خصوصی رول کیا تھا، اس کو بتانے کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وكذلك جعلناكم امة وسطاً لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شہیداً ۔ (البقرہ ۱۴۳) یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تا کہ تم ہو بتانے والے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues