دوسری آیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۹
عقبہ بن نافع تابعی ٦۲۱ عیسوی میں پیدا ہوئے اور ٦٨۳ میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ پیغمبر اسلام کے آخری زمانے میں پیدا ہوئے لیکن آپ سے ان کی ملاقات نہ ہوسکی۔
عقبہ بن نافع تابعی یزید بن معاویہ کے دورِ خلافت میں افریقہ کی مسلم فوجوں کے سپہ سالار تھے۔ وہ مغربی افریقہ کے ملکوں کو فتح کرتے ہوئے اٹلانٹک کے ساحل تک پہنچ گئے ۔ شہرِ اسفی ان کی آخری منزل تھی۔ وہاں انھوں نے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا اور اس کے پانی میں کھڑے ہو کر کہا: اللهم إني لو أعلم وراء هذا البحر بلداً لخضته إليه حتى لا يعبد أحد دونك (خدایا، اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا۔ یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے ۔ )
جیسا کہ معلوم ہے، افریقی ساحل کے دوسری طرف امریکا ہے۔ دونوں کے درمیان اٹلانٹک کا وسیع سمندر حال ہے۔ عقبہ بن نافع کے زمانے میں امریکا دریافت نہیں ہوا تھا۔ وہ بعد کو دریافت ہوا چنانچہ اس کو نئی دنیا کہا جاتا ہے۔
اس واقعے کو علامتی طور پر لے کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہلے گروہ نے ”قدیم دنیا“ میں اپنا دعوتی رول ادا کیا تھا، اب کمیونیکیشن کے نئے دور میں دوسرے گروہ کو ”نئی دنیا“ کے درمیان اپنا دعوتی رول ادا کرنا ہے۔ پہلے گروہ نے روایتی دور میں اپنا دعوتی رول ادا کیا تھا اب دوسرا گروہ سائنسی دور میں اپنا دعوتی رول ادا کرے گا۔ پہلے گروہ نے زمین کے مخصوص حصے میں اپنا دعوتی رول انجام دیا تھا۔ اب دوسرا گروہ زمین کے پورے حصے میں اپنا دعوتی رول انجام دے گا۔ پہلے گروہ نے قدیم اسلوب میں اپنا دعوتی رول انجام دیا تھا، اب دوسرا گروہ جدید اسلوب میں اپنا دعوتی رول انجام دے گا، وغیرہ۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کے نام سے موجودہ دعوتی کام جنوری ۲۰۰۱ کو دہلی میں شروع ہوا۔ لیکن اس تنظیم کے صدر نے اس دعوتی کام کو اس سے بہت پہلے ۱۹۵۰ میں اعظم گڑھ (یو۔ پی) میں ادارۂ اشاعتِ اسلام کے نام سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ کام مسلسل بلا انقطاع جاری رہا۔ ۱۹۷۰ میں اسی مقصد کے لیے اسلامی مرکز (نئی دہلی) کا قیام عمل میں آیا۔ ۱۹۷۶ میں اس نے الرسالہ مشن کی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues