Al-Risala · November 2006 · page 42

Integrated Model of Development

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴۲

۹- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ۲۸ جون ۲۰۰۶ء کو ایک اجتماع ہوا۔ اس میں کیندریہ ودیالیہ کے تمام اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ وہاں انھوں نے ’’بیسک ہیومن ویلوز اِن اسلام‘ کے موضوع پرایک تقریر کی۔ آخر میں سوال اور جواب ہوا۔ یہ پروگرام ایک گھنٹہ رہا۔ حاضرین نے سوال کیا کہ آپ جو افراد تیار کر رہے ہیں وہ کس طرح کے لوگ ہیں۔ وہاں ہماری ٹیم کچھ لوگ موجود تھے۔ لوگوں کی فرمائش پر مسٹر رجت ملہوترا اور سعدیہ خان نے اس سلسلے میں اپنا تجربہ بتایا۔ اس کے علاوہ لوگوں کے درمیان سی پی ایس کے دعوہ پمفلٹ اور برو شر تقسیم کیے گئے۔

۱۰- سنٹر فار کلچر رسور سز اینڈ ٹریننگ (CCRT) کے تحت نئی دہلی میں ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ یہ ڈسکشن یونی سیف بلڈنگ (UNICEF) کے ہال میں ۳ جولائی ۲۰۰۶ کو ہوا۔ امریکا کے پروفیسروں کی ایک ٹیم انڈیا آئی تھی۔ انھیں کی درخواست پر یہ پروگرام منعقد کیا گیا۔ صدر اسلامی مرکز نے ان کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ وہاں انھوں نے اسلام اور ہندوستان کے موضوع پر ایک تقریر کی اور سوالات کے جوابات دئے۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔

۱۱- نیوورلڈ موومنٹ (نئی دہلی) کے زیر اہتمام ۴ جولائی ۲۰۰۲ء کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ایک سیمنار ہوا۔ اس کے صدر سوامی اوم پورن سوتنتر تھے۔ اس میں دہلی اور دہلی کے باہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک تھے۔ اس کا موضوع یہ تھا:

Integrated Model of Development

اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ صحیح طور پر اس کا عنوان یہ ہونا چاہیے:

Spiritual Model of Integrated Development

حدیث رسول کی روشنی میں انھوں نے بتایا کہ اختلاف زندگی کی ایک حقیقت ہے اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ امن کے اصول پر قائم رہتے ہوئے زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔

۱۲- ۱۱ جولائی ۲۰۰۶ کوای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کی گفتگو کی ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ سوالات کا تعلق، پاپولیشن ڈے سے تھا۔ جواب کے دوران بتایا گیا کہ پاپولیشن کنٹرول کا تعلق، فتاویٰ سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق نیشنل پالیسی سے ہے۔ اس معاملے میں حکومت جو پالیسی بنائے گی وہی مسلمانوں کی پالیسی بھی ہوگی۔ ان کی پالیسی اس سے الگ نہ ہوگی۔

۱۳- ترکی کا ایک ادارہ ہے اس کا نام یہ ہے:

Inter-civilizational Inter-cultural Dialogue for Understanding and Peace

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page