الرساله مشن کے متعلق بعض سوالات
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۴۴
ثابت ہوتی ہے: لیس بامانیکم ولا آماني أهْلِ الكتاب، من يعمل سوءاً يُجزبه (النساء: 123) یعنی نہ تمھاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی بُرا کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔ یہ عقیدہ بالکل بے بنیاد ہے کہ مسلمان خود اپنی پیدائش کے اعتبار سے ”منتخب گروہ“ بن چکے ہیں ۔ اور ان کی جنتیں رزرو ہیں۔ یہ عقیدہ سرتا سر بے بنیاد ہے۔ یہ عقیدہ بھی ایک بے بنیاد عقیدہ ہے کہ کچھ ظاہری رسوم و رواج کی تکمیل، یا کسی کلچرل شناخت کو اختیار کرنا آدمی کو جنت کا سرٹیفکیٹ دے دیتا ہے۔ جنت نفوس مزکی کے لیے ہے، نہ کہ کسی کلچرل گروہ کے لیے (طٰہ: 76)
البتہ ایک اور پہلو ہے جس کے اعتبار سے مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلے میں موافق حیثیت (advantageous position) حاصل ہے۔ وہ یہ کہ دوسروں کے برعکس، مسلمانوں کا ذہن اسلام کے خلاف تعصب سے خالی ہوتا ہے۔ اس بنا پر مسلمان ممکن طور پر اس قابل رہتے ہیں کہ وہ کسی نفسیاتی رکاوٹ کے بغیر اس بارے میں غور و فکر کا صحیح نقطہ آغاز پالیں۔
حدیث میں آیا ہے: كل مولود يولد علی الفطرة، فأبواه يهودانه أو ينصرانه أو يمجحسانه۔ (صحيح البخاری، کتاب الجنائز) یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یا تو یہودی بنا دیتے ہیں۔ یا نصرانی بنا دیتے ہیں، یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا کسی خاندان میں پیدا ہوتا ہے اور کسی سماج میں اس کی پرورش ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی بچپن ہی سے متاثرہ ذہن کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ہر آدمی بلا استثناء کنڈیشننگ کا ایک کیس ہوتا ہے۔ آدمی کی کنڈیشننگ جس ماحول میں ہوتی ہے، اُسی ماحول کے اعتبار سے اس کی شخصیت بن کر تیار ہوتی ہے۔ کنڈیشننگ کے اس عمل کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کو اپنے خاندانی مذہب کے ساتھ متعصبانہ حد تک جذباتی تعلق ہو جاتا ہے، اور دوسرے مذہب کے بارے میں وہ منفی ذہنیت کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ کنڈیشننگ کسی غیر مسلم کے لیے اس میں رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں غیر متاثرہ ذہن کے ساتھ سوچ سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues