Al-Risala · April 2007 · page 51

کیا قیامت قریب آگئی

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۵۱

کیا قیامت قریب آگئی

قرآن اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا ابدی نہیں ہے، ایک وقت آئے گا جب کہ وہ ختم کردی جائے گی اور دوسری دنیا بنے گی جو کہ ابدی ہوگی۔ موجودہ دنیا میں ایسے آثار پائے جاتے ہیں جن کو لے کر دورِ حاضر کے مفکرین یہ اندازہ کرتے رہے ہیں کہ تاریخ کا خاتمہ (end of history) قریب آچکا ہے۔ اب خالص سائنسی سروے کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا واقعۃً اپنے آخری دورِ حیات میں پہنچ چکی ہے۔ اب خالص سائنسی مطالعے کے ذریعے وہ نشانیاں سامنے آئی ہیں جو احادیثِ رسول میں پہلے سے موجود تھیں۔

اقوام متحدہ (UNO) موجودہ دنیا کا سب سے بڑا عالمی ادارہ ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت، ایک انٹرنیشنل پینل بنایا گیا۔ اس پینل میں ڈھائی ہزار سائنس داں شامل کیے گئے۔ ان سائنس دانوں کا تعلق، دنیا کے 130 ملکوں سے تھا۔ یہ پینل موسمیاتی تبدیلی (climate change) پر سرچ کے لیے تھا۔ اس پینل کا صدر دفتر پیرس میں تھا۔ اس پینل نے اپنی رسرچ مکمل کر کے اُس کی تفصیلی رپورٹ اقوام متحدہ کے حوالے کردی ہے۔ یہ ایک سنسنی خیز رپورٹ ہے، جو میڈیا میں آچکی ہے۔ ہمارے سامنے اس وقت، نئی دہلی کے انگریزی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کا شمارہ 3 فروری 2007 ہے۔ اس شمارے میں یہ رپورٹ تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کا ٹائتل بامعنی طور پر یہ ہے— انتہائی نشانیاں (Warning Signs)۔ اس عنوان میں ایک لفظ کا اضافہ کر کے یوں کہا جاسکتا ہے:

Warning Signs of Doomsday

قرآن میں چودہ سو سال پہلے یہ آیت اتری تھی کہ: ظہر الفساد فى البر والبحر بما كسبت أيدى الناس (الروم: 41) یعنی خشکی اور سمندر میں انسان کے کیے ہوئے عمل کی بنا پر فساد ظاہر ہو گیا۔ مذکورہ پینل کی رپورٹ اس قرآنی آیت کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ چناں چہ مذکورہ اخبار میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page