ویل للمطففین
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۳۵
وہ فراموشی کے خانہ میں ڈال دے۔ اس قسم کی تطفیف دونوں شریکوں کے دل میں ایک دوسرے کے خلاف منفی جذبات پیدا کرے گی یہاں تک کہ دونوں لڑکرا ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ دونوں ایک دوسرے کے حصہ (contribution) کو یاد رکھیں اور اُس کا کھلا اعتراف کریں تو دونوں کے دل میں ایک دوسرے کی عزت اور اہمیت ہوگی۔ ایسی حالت میں اُن کا مشترک کاروبار مسلسل چلتا رہے گا یہاں تک کہ وہ عظیم کامیابی تک پہنچ جائے گا۔ یہی معاملہ گروہی نزاعات کا ہے۔ گروہی نزاعات میں بھی عام طور پر لوگ تطفیف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر گروہ اپنی طرف کے ظلم کو حذف کر کے دوسرے گروہ کے ظلم کو بیان کرتا ہے۔ مثلاً ایک گروہ کے لوگوں نے دوسرے گروہ کے لوگوں پر پتھر برسا کر اُنھیں زخمی کر دیا۔ اُس کے بعد دوسرے گروہ کے لوگ مشتعل ہو گئے اور انھوں نے پتھر کے جواب میں بم کا استعمال کر کے مزید اضافہ کے ساتھ فریق اول کو نقصان پہنچایا۔
اب یہ ہوتا ہے کہ دونوں فریق، معاملے کی یک طرفہ رپورٹنگ کرتے ہیں۔ یعنی ایک فریق یہ کرتا ہے کہ وہ صرف دوسرے فریق کے بموں کا حال بتا کر اُس کو ظالم ثابت کرتا ہے۔ اسی طرح دوسرا فریق یہ کرتا ہے کہ وہ مخالف فریق کی طرف سے آنے والے پتھروں کا ذکر کر کے ظاہر کرتا ہے کہ وہی یک طرفہ طور پر ظالم ہے۔ یہ بلاشبہہ تطفیف ہے۔ اس قسم کی تطفیف جس سماج میں رائج ہو جائے اُس کے معاملات کبھی درست نہ ہوں گے۔ اُس کے لوگوں کے درمیان ہمیشہ نفرت اور ٹکراؤ کا ماحول باقی رہے گا۔ اور نفرت اور ٹکراؤ کے ماحول میں نہ ایک گروہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ دوسرا گروہ۔ اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ انصاف اور غیر جانب داری کا طریقہ اختیار کریں۔ ہر ایک یہ کرے کہ دوسرے کی کوتاہی بتانے کے ساتھ وہ خود اپنی کوتاہی کو بھی بتائے۔ دوسرے کے ظلم کی نشاندہی کے ساتھ وہ اپنے حصہ کے ظلم کا بھی کھلا اقرار کرے۔ یہی منصفانہ روش ہے اور اسی قسم کی منصفانہ روش سے یہ ہوتا ہے کہ کسی سماج میں اعلیٰ اخلاقی قدریں فروغ پائیں اور وقتی رکاوٹوں کے باوجود سماج کا تر قیاتی سفر مسلسل آگے کی طرف جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری منزل پر پہنچ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues