Al-Risala · May 2007 · page 25

زحمت میں رحمت

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۵

زحمت میں رحمت

دنیا میں ہمیشہ امیری اور غریبی کا فرق پایا جاتا رہا ہے۔ اس فرق کو کچھ لوگ معاشی اور سماجی برائی سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یا تو اس دنیا کا کوئی خدا نہیں، اور اگر خدا ہے تو وہ عادل نہیں۔ کیوں کہ یہ خدا کی عادلانہ صفت کے خلاف ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان یہ فرق رکھے کہ کچھ لوگ معاشی اعتبار سے اونچے ہوں اور کچھ لوگ معاشی اعتبار سے نیچے یہ اعتراض درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ معاش میں اونچ نیچ کا فرق اچھے اور بُرے کی نسبت سے نہیں ہے۔ یہ دراصل اس لیے ہے کہ انسانی سماج میں مسابقت (competition) کا ماحول قائم ہو۔ مزید یہ کہ کم آمدنی والے لوگ زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے تحت یہ ہوتا ہے کہ غریب طبقے کے حالات اس کی تخلیقیت (creativity) کو بڑھاتے ہیں اور امیر طبقے کے حالات اُس کو غیر تخلیقی (uncreative) بناتے چلے جاتے ہیں۔

فطرت کے اسی قانون کی بنا پر بار بار اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں کہ ایک شخص جو دولت مند گھرانے میں پیدا ہوا تھا وہ عیش و عشرت کا شکار ہو گیا۔ اُس کی صلاحیتیں ترقی نہ کرسکیں۔ آخر کا روہ ایک نا کام انسان کی حیثیت سے مر گیا۔ دوسری طرف یہ برعکس مثال بھی بار بار سامنے آئی ہے کہ ایک شخص غریب ماں باپ کے گھر پیدا ہوا۔ اُس کے حالات نے اُس کو جد وجہد کے راستے پر لگایا۔ وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرنے لگا۔ یہاں تک کہ اُس نے غیر معمولی ترقی حاصل کرلی۔ اُس نے بیک وقت دو پہلوؤں سے ترقی کی۔ ایک طرف اُس کے مشکل حالات نے اُس کو زیادہ گہرے تجربات کرائے۔ اُس کا ذہنی ارتقاء دوسروں سے زیادہ ہوا۔ وہ دوسروں سے زیادہ فہم اور بصیرت کا مالک بن گیا۔ اسی کے ساتھ اُس نے مادی اور معاشی اعتبار سے بھی غیر معمولی ترقی کی۔ اُس کو اپنے باپ کی طرف سے غریبی کی وراثت ملی تھی، مگر جب وہ مرا تو اُس نے اپنی اولاد کے لیے دولت اور جائداد کی بہت بڑی وراثت چھوڑی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page