Al-Risala · August 2007 · page 22

کامیابی کا اصول

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۲۲

کامیابی کا اصول

جلدی نہ کرو۔ کیوں کہ تم جتنی جلدی کروگے اتنی ہی زیادہ دیر لگے گی۔ جلدی کرنا کسی کام کو وقت سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اور اس دنیا کے لیے خالق کا قائم کردہ اٹل قانون یہ ہے کہ یہاں ہر کام اپنے وقت پر مکمل ہو، وقت سے پہلے کوئی کام کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔ جلدی کرنے والے کا کام صرف بگڑتا ہے، اُس کا کام کبھی بننے والا نہیں۔

اس دنیا میں آدمی جب کوئی کام کرتا ہے تو اگرچہ اس کو شروع کرنے والا وہ خود ہوتا ہے۔ مگر اس کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب کہ فطرت کا نظام بھی اس کے ساتھ موافقت کرے۔ فطرت کے نظام کی موافقت حاصل کیے بغیر، یہاں کوئی کام کبھی تکمیل کو پہنچنے والا نہیں۔ فطرت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ تدریج کے اصول پر عمل کرتی ہے۔ وہ واقعات کو اچانک ظہور میں نہیں لاتی۔ اب انسان اگر فوراً اور جلد نتیجہ نکالنا چاہے تو وہ عملاً ممکن نہ ہوگا۔ کیوں کہ انسان کی رفتار تیز ہوگی اور فطرت کی رفتار تدریجی قاعدے کی بنا پر سست ۔ ایسی حالت میں آدمی کو اپنے کام میں فطرت کی موافقت حاصل نہ ہوگی۔ اس کا کام بننے کے بجائے صرف بگڑکر رہ جائے گا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ جو کام بھی کرنا چاہے، سب سے پہلے وہ فطرت کے نظام کا مطالعہ کرے۔ اس کے بارے میں وہ فطرت کے اصول کو معلوم کرے۔ اور پھر اس مطالعہ کی روشنی میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کو اختیار کر کے کوئی شخص کامیابی کے ساتھ اپنے مقصد تک پہنچ سکتا ہے۔

کامیابی اور ناکامی دونوں کا معاملہ فطرت کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ اس دنیا میں فطرت سے مطابقت کرنے کا نام کامیابی ہے، اور فطرت کے خلاف چلنے کا نام ناکامی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پہلے فطرت کے نظام کو سمجھے اور اُس کے بعد اُس کے مطابق ، وہ اپنے کام کی منصوبہ بندی کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page