Al-Risala · August 2007 · page 37

تعلیم کی اہمیت

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۳۷

تعلیم کی اہمیت

تعلیم کی اہمیت کیوں ہے، ایک عام انسان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ تعلیم اس لیے ضروری ہے کہ وہ ملازمت حاصل کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ تعلیم کا ثانوی پہلو ہے۔ یہ صحیح ہے کہ تعلیم آدمی کے لیے ملازمت یا معاش میں مددگار ہوتی ہے، مگر تعلیم کی اصل اہمیت یہ ہے کہ تعلیم آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ تعلیم آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ باتوں کو اُس کی گہرائی کے ساتھ سمجھے اور زیادہ نتیجہ خیز انداز میں اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کر سکے۔

قدیم زمانے میں عام طور پر تعلیم برائے تعلیم کا رواج تھا۔ قدیم زمانے میں علم یا تعلیم کا رشتہ معاش سے کم اور زندگی سے زیادہ جڑا ہوا تھا۔ لوگ علم کی خاطر علم حاصل کیا کرتے تھے۔ قدیم زرعی دور میں معاش کا تعلق جسمانی محنت سے زیادہ تھا اور دماغی محنت سے کم۔ اس صورت حال نے علم کو معاش کے بجائے زیادہ تر خود علم سے جوڑ رکھا تھا۔

یہی خاص وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام بڑے بڑے اہلِ علم قدیم زمانے میں پیدا ہوئے۔ موجودہ زمانے میں ڈاکٹر اور انجینئر اور دوسرے تجارتی شعبوں کے ماہرین تو بہت پیدا ہورہے ہیں، مگر خالص علمی شعبے کے ماہرین موجودہ زمانے میں بہت کم پائے جاتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں علم اقتصادیات کے تابع ہوگیا ہے، جب کہ قدیم زمانے میں زندگی کے تمام شعبے، بشمول اقتصادیات، علم کے تابع ہوا کرتے تھے۔

علمی تاریخ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بڑی بڑی دریافتیں کرنے والے اور بڑے بڑے علمی کارنامے انجام دینے والے زیادہ تر ماضی میں پیدا ہوئے۔ موجودہ زمانے میں کوئی سقراط، کوئی گلیلیو، کوئی نیوٹن نظر نہیں آتا۔ البتہ ٹیکنیکل شعبوں کے ماہرین لاکھوں کی تعداد میں ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔

یہ صورت حال بے حد تشویش ناک ہے۔ اس صورت حال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page