Al-Risala · September 2007 · page 38

تقابلی مطالعہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۸

مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں ایڈز (AIDS) کا مسئلہ ایک خطرناک مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر خود طبی تحقیق کے مطابق ، یہ انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ میڈیکل سائنس میں یہ مستقل نظریہ ہے کہ کئی بیماریاں اجداد سے نسلی طور پر منتقل ہوتی ہیں۔ ایسی بیماریوں کو اجدادی بیماری (atavistic disease) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف قسم کی وبائیں پھیلتی ہیں جس میں ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں، یا خرابی صحت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی خود طبی تحقیق کے مطابق ، انسان کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔

دہلی میں معروف شخصیت ڈاکٹر آرن شوری کے صاحبزادے مفلوج ہو کر ویل چیئر پر رہتے ہیں۔ اس’’ سفرنگ ‘‘ کا سبب بھی یہ ہے کہ چھوٹی عمر میں امریکا کے ایک اسپتال میں اُن کو غلط انجکشن لگ گیا، اس بنا پر وہ جسمانی اعتبار سے مفلوج ہو گئے۔ اسی طرح تشدد اور جنگوں کے نتیجے میں بے شمار لوگ مر جاتے ہیں یا نا کارہ ہو جاتے ہیں، یہ سب بھی انسانی کارروائیوں کی بنا پر ہوتا ہے، وغیرہ۔ واقعہ یہ ہے کہ انسانی سفرنگ کو نیچر سے منسوب کرنا، سرتاسر ایک غیر علمی بات ہے۔ سائنس کی تمام شاخوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نیچر مکمل طور پر خرابیوں سے پاک ہے۔ نیچر اس حد تک محکم ہے کہ اس کی کارکردگی کے بارے میں پیشگی طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر نیچر کے اندر قابل پیشین گوئی کردار نہ ہو تو سائنس کی تمام سرگرمیاں اچانک ختم ہو جائیں گی۔

تقابلی مطالعہ

پرابلم آف اول کے اس معاملے کا علمی مطالعہ کرنے کا پہلا اصول وہ ہے جس کو تقابلی طور پر سمجھنا (in comparision that we understand) کہا جاتا ہے۔ تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ محدود طور پر صرف انسانی دنیا کا مسئلہ ہے، جب کہ انسان پوری کائنات کے مقابلے میں ایک بہت ہی چھوٹے جُز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ کائنات اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات (zero-defect world) ہے۔ کائنات میں بے شمار سرگرمیاں ہر آن جاری رہتی ہیں، لیکن اُس میں کہیں بھی کوئی خرابی (evil) دکھائی نہیں دیتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page