Al-Risala · September 2007 · page 40

خدا کا تخلیقی پلان

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۰

کہ وہ انسان کو ایک عظیم انعام دے۔ یہ عظیم انعام جنت ہے، جوابدی خوشیوں کی جگہ ہے۔ جنت میں جگہ پانے کا حق دار صرف وہ شخص ہوگا جو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے۔ جو آزاد ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ڈسپلن اور کنٹرول میں رکھے۔ جہاں آزادی ہوگی، وہاں آزادی کا غلط استعمال بھی ہوگا۔ لیکن آزادی اتنی زیادہ قیمتی چیز ہے کہ کسی بھی اندیشے کی بنا پر اس کو ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کو جاننا ضروری ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو اس دنیا میں مکمل آزادی دی گئی ہے۔ ایسا خدا نے مصلحتِ امتحان کے لیے کیا ہے۔ انسانی زندگی میں سفرنگ کے جو واقعات ہوتے ہیں، وہ تمام تر اسی آزادی کے غلط استعمال کے نتیجے میں ہوتے ہیں، کبھی براہِ راست طور پر اور کبھی بالواسطہ طور پر، کبھی سفرنگ میں مبتلا شخص کے ذاتی عمل کی وجہ سے اور کبھی دوسرے انسانوں کے عمل کی وجہ سے، کبھی کسی فوری غلطی کے نتیجے کے طور پر اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پچھلی نسلوں کی غلطی کی بنا پر اس کا نتیجہ بعد کی نسلوں کے سامنے آتا ہے۔ کائناتی معنویت کی توجیہہ خدا کے وجود کی بحث کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق، کائنات کی معنویت (meaning) سے ہے۔ خدا کو ماننا، نہ صرف کائنات کے وجود کی توجیہہ ہے بلکہ خدا کا عقیدہ کائنات کو کامل طور پر بامعنی دیتا ہے۔ خدا کو نہ ماننے کا مطلب یہ ہے کہ بامعنی کائنات ایک بے معنی انجام پر ختم ہوجائے۔ جب کہ خدا کو ماننا، یہ بتاتا ہے کہ کائنات آخر کار ایک بامعنی انجام پر پہنچنے والی ہے۔ انسان کے اندر پیدائشی طور پر انصاف اور بے انصافی کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر یہ چاہتا ہے کہ جو شخص انصاف کے اصولوں کے تحت زندگی گزارے، اُس کو انعام ملے۔ اور جو شخص ناانصافی کا طریقہ اختیار کرے، اس کو سزا دی جائے۔ اس فطری تقاضے کی تکمیل صرف باخدا کائنات (universe with God) کے نظریے میں ملتی ہے، بے خدا کائنات (universe without God) کے نظریے میں اس فطری تقاضے کا کوئی جواب نہیں۔

ہر انسان پیدائشی طور پر اپنے اندر خواہشوں کا سمندر لیے ہوئے ہے۔ موجودہ دنیا میں ان

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page