جنت میں داخلے کی شرط
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۵
جنت میں داخلے کی شرط
آدم پہلے انسان تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کر کے اُن کو اور اُن کی بیوی حوا کو جنت میں رکھا، اور کہا کہ تم دونوں یہاں رہو اور آزادانہ طور پر یہاں کے سامانِ راحت سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن تم اس شجرِ ممنوعہ کے قریب نہ جانا، ورنہ تم ظالم ہو جاؤ گے (البقرۃ: 35) مگر شیطان کے وسوسے سے متاثر ہو کر انھوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا۔ اس کے بعد آدم اور حوا دونوں جنت سے نکال کر موجودہ زمین میں ڈال دیے گیے۔ اور آدم سے اور ان کی پوری نسل سے یہ کہہ دیا گیا کہ جو عمل کا ثبوت دے گا، وہی ابدی جنت میں جگہ پائے گا۔ زندگی کے آغاز کی یہ مثال بتاتی ہے کہ جنت کے حصول کی شرط کیا ہے۔ جنت کسی کو پر اسرار طور پر نہیں ملے گی اور نہ کسی کی سفارش کسی کو جنت کا مستحق بنائے گی ۔ جنت کسی کو پیدائشی حق کے طور پر ملنے والی نہیں، یہاں تک کہ پیغمبر کو بھی نہیں :
Paradise is not a birth right, even for the Prophets. اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے ذریعے سارے انسانوں کے لیے یہ مثال قائم کر دی اور بتا دیا کہ جنت کسی خود ساختہ عقیدے کے تحت کسی کو ملنے والی نہیں۔ یہ اصول اتنا عام ہے کہ اس میں پیغمبروں تک کا کوئی استثنا نہیں ہے۔
حضرت آدم کے واقعے میں ایک اور بے حداہم بات معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ جنت کے حصول کا مدار سب سے پہلے جس چیز پر ہے، وہ ہے اپنی خواہشوں پر کنٹرول اور اپنی عقل کو اتنا زیادہ ترقی دینا کہ وہ شیطان کے وسوسوں سے بچ سکے۔ انسان کے اندر ابدی کامیابی کی خواہش بے پناہ طور پر موجود ہے۔ اسی خواہش کے راستے سے شیطان نے آدم کے اوپر حملہ کیا اور وہ کامیاب ہو گیا۔ اسی طرح انسان کے اندر بہت سی خواہشیں ہیں۔ ہر خواہش انسان کے اندر شیطان کے داخلے کا دروازہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی خواہش کے ہر دروازے پر چوکی دار بنارہے، تاکہ شیطان اس کے اندر داخل ہو کر اُس کو خدا کی رحمت سے دور نہ کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues