Al-Risala · October 2007 · page 28

جہاد کیا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸

جہاد کیا ہے

ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر (ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں) اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ہم وقتی جہاد سے مستقل جہاد کی طرف واپس آئے ہیں:

We have come back from temporary jihad to permanent jihad. غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقتی جہاد سے مراد دفاعی جہاد (defensive jihad) ہے، جو کبھی کبھی پیش آتا ہے، اور مستقل جہاد سے مراد اسپرچول جہاد (spiritual jihad) ہے، جو ہر آدمی کی زندگی میں مستقل طور پر جاری رہتا ہے۔ اس بات کو ایک اور حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: جاهدوا أهوائكم كما تجاهدون أعدائكم۔ یعنی اپنی خواہشات سے جہاد کرو، جس طرح تم اپنے دشمن سے جہاد کرتے ہو۔

دشمن کے خلاف جہاد انتہائی وقتی چیز ہے، جو اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ کسی باقاعدہ طور پر ریاست کے اوپر حملہ کر دیا ہو۔ یہ دفاعی جہاد ہے، اور اِس میں صرف کچھ تربیت یافتہ افراد حصہ لیتے ہیں، نہ کہ ساری مسلم کمیونٹی۔ اِس کے برعکس، اپنے نفس کے خلاف جہاد ایک انفرادی نوعیت کی چیز ہے اور وہ ہر مومن کی زندگی میں جاری رہتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں ہر عمل کو کرنے کے لیے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ پیش آتا ہے۔ اپنے نفس سے کامیاب مقابلے کے بغیر کوئی آدمی جہادِنفس کے کام کو انجام نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر یہ ایک ثواب کا کام ہے کہ آپ جب کسی شخص سے ملیں تو کہیں 'السلام علیکم' (تمھارے اوپر سلامتی ہو)۔ یہ کلمہ اتنا بڑا عمل ہے کہ اس کے کہنے پر حدیث میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں جب آدمی لوگوں کے ساتھ رہتا ہے تو بار بار اُس کو

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page