ذریعہ سکون
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳
ذریعہ سکون
قرآن کی سورہ نمبر تیس میں ارشاد ہوا ہے: خلق لكم من أنفسكم أزواجاً لتسكنوا إليها (الروم: 21) یعنی خدا نے تمھاری جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیے، تاکہ تم اُن سے سکون حاصل کرو۔ اِس آیت میں سکون سے مراد صرف معروف ازدواجی سکون نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد زیادہ برتر سکون ہے۔ اِس کا مطلب ہے— زندگی کا رول ادا کرنے کے لیے ایک پُرسکون پارٹنر حاصل کرنا: To find a peaceful partner for playing a greater role in life. اِس دنیا میں کوئی بڑا کام صرف اجتماعی کوشش کے ذریعے ممکن ہے۔ اکیلا ایک آدمی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ اِس اجتماع کی پہلی اور فطری صورت نکاح کے ذریعے ایک عورت اور ایک مرد کا باہم اکھٹا ہونا ہے۔ دو روحوں کا یہ اجتماع سب سے زیادہ کامیاب اجتماع ہے۔ یہ واحد اجتماع ہے جس میں طرفین قلبی سکون اور کامل اعتماد کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں۔ نکاح کے ذریعے ایک عورت اور ایک مرد کی یک جائی اِس دنیا میں بننے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ طرفین کو اگر اس کا احساس ہو تو وہ اس کو ایک عظیم نعمت سمجھیں اور دونوں مل کر اتنا بڑا کام کریں جو انسانوں کی کوئی دوسری کمپنی نہیں کر سکتی۔
اِس معاملے کی ایک مثال فرانس کے ایک جوڑے کی ہے۔ اُن کا نام پیریے کیوری (وفات: 1906) اور میری کیوری (وفات: 1934) تھا۔ ان دونوں نے مل کر بہت اہم کام کیا۔ ماڈرن سائنس میں ان کا کام اتنا بڑا تھا کہ ان کو 1903 اور 1911 میں نوبل پرائز دیے گیے۔ یہی امکان ہر عورت اور ہر مرد کے لیے موجود ہے۔ اپنے اپنے میدان کے اعتبار سے ہر جوڑا یہی کام انجام دے سکتا ہے۔ فطرت نے ہر عورت اور ہر مرد کو اعلیٰ صلاحیت دی ہے۔ جولوگ بھی جدوجہد کی مطلوب شرط کو پورا کریں، وہ اپنے اپنے دائرے میں اِس قسم کی اعلیٰ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے عورت کا برتر رول، شعوری طور پر، نہ مشرقی دنیا دریافت کرسکی اور نہ مغربی دنیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2007 All issues