Al-Risala · December 2007 · page 13

کنڈیشننگ کو توڑنا

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۳

کنڈیشننگ کو توڑنا

شادی کے بعد جب ایک عورت اور ایک مرد باہم اکھٹا ہوتے ہیں تو یہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی، یہ دو مختلف شخصیتوں کا ایک ساتھ جمع ہونا ہے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ایک لفظ میں ،عورت مس کنڈیشنڈ ہوتی ہے اور مرد مسٹر کنڈیشنڈ۔

یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ کوئی عورت یا مرد جب پیدا ہوتے ہیں تو اپنے اپنے ماحول کے لحاظ سے دونوں کی کنڈیشننگ شروع ہو جاتی ہے۔ گھر کا ماحول اور گھر کے باہر کا ماحول دونوں کے اثر سے ہر ایک دھیرے دھیرے ایک متاثر ذہن (conditioned mind) بن جاتا ہے۔ ہر ایک کے اوپر اُس کا یہ متاثر ذہن اتنا زیادہ چھا جاتا ہے کہ ہرایک اپنے خول میں جینے لگتا ہے۔ ہر ایک اپنے کو درست سمجھنے لگتا ہے اور دوسرے کو نادرست۔ اسی تاثر پذیری کو کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ کنڈیشننگ کا یہ معاملہ ہر ایک کے ساتھ بلا استثنا پیش آتا ہے۔

ایسی حالت میں جب ایک عورت اور ایک مرد باہم اکھٹا ہوتے ہیں تو دونوں ایک دوسرے کے لیے مسئلہ بن جاتے ہیں۔ عورت اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے ایک چیز کو ہرے رنگ میں دیکھ رہی ہوتی ہے، اور مرد کو وہی چیز اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے نیلے رنگ میں دکھائی دیتی ہے۔ اس فرق کی بنا پر دونوں میں بار بار اختلافات پیدا ہوتے ہیں جو بڑھ کر شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس مسئلے کا واحد ڈی کنڈیشننگ ہے، اور ڈی کنڈیشننگ کا واحد طریقہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کھلے ذہن سے ڈسکشن کریں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ برابر انٹلیکچول ایکسچینج کریں ۔ اسی کے ساتھ دونوں کے اندر اعتراف کا مزاج لازمی طور پر ضروری ہے۔ یعنی حقیقت کھل جانے کے بعد فوراً اُس کو مان لینا اور فوراً یہ کہہ دینا کہ — اس معاملے میں میں غلطی پر تھا: I was wrong. اپنی غلطی کو کھلے طور پر مان لینا، یہی اپنی ڈی کنڈیشننگ کا واحد کامیاب طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2007 All issues

Printed page