با مقصد انسان
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۵
با مقصد انسان
ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ وہ دعوت کا کام کافی سرگرمی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی ایک لڑکی کی شادی ایک نوجوان سے کی، جو کہ ایک مغربی ملک میں رہتے ہیں۔ شادی کے بعد لڑکی اپنے شوہر کے پاس چلی گئی۔ وہاں وہ چند سال رہی۔ اُس کے یہاں ایک بچہ بھی پیدا ہوا، مگر شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ آخر کار لڑکی غصہ ہو کر اپنے باپ کے پاس انڈیا آگئی۔ لڑکی کی زبان سے شکایتوں کو سُن کر اس کے باپ نے یقین کر لیا کہ ان کی لڑکی بے خطا ہے اور سارا قصور اس کے شوہر کا ہے۔ مذکورہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔ حالات سننے کے بعد میں نے کہا کہ اس معاملے میں آپ باپ کے دل سے بول رہے ہیں، آپ داعی کے دل سے نہیں بول رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ٹیلی فون پر اپنے داماد کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ بہت سخت (adamant) ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ— میں نہیں بدلوں گا، آپ کی بیٹی کو میرے ساتھ ایڈجسٹ کرنا چاہیے۔
میں نے کہا کہ اس قسم کے اختلاف ہر شادی شدہ زندگی میں پیش آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ شوہر کے اندر بُری عادتیں ہوں۔ مثلاً شراب پینا، وغیرہ۔ دوسری قسم کا اختلاف وہ ہے جو مزاجی (temperamental) نوعیت کا ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق ، آپ کے داماد میں پہلی قسم کی خرابی نہیں ہے۔ اس لیے آپ کو اُسے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں لینا چاہیے۔ موجودہ صورت میں آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی بیٹی کو سمجھائیں کہ تم اپنے شوہر سے ایڈجسٹ کرو۔ تم گھر کی زندگی میں اپنے شوہر کو اپنا باس (boss) بنا لو۔ یہی واحد قابلِ عمل صورت ہے ۔ اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ داعی ہیں۔ داعی ایک با مقصد انسان ہوتا ہے۔ اور با مقصد انسان اس کا تحمّل نہیں کر سکتا کہ وہ اپنے مقصد کے سوا کسی اور چیز کو اپنا مسئلہ بنائے ۔ آپ اپنی بیٹی کو سمجھا بُجھا کر اس کے شوہر کے پاس بھیج دیجیے، ورنہ یہ بیٹی آپ کی مقصدی زندگی کا خاتمہ کر دے گی ۔ اس کے بعد آپ صرف باپ کی حیثیت سے زندہ رہیں گے، نہ کہ داعی کی حیثیت سے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2007 All issues